attique ur rehman

منڈی بہائولادین میں ہسپتال کابنانے کا منصوبہ

اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے. یہ ہسپتال کے اوورسیز پاکستانیوں کی مدد سے بنایا جائے گا، اعجاز بابر ساہی . ہسپتال کے پراجیکٹ پر ابتدائی کام شروع ہوچکا ہے۔ تصور تارڑ

پیرس ( صاحبزادہ عتیق سے ) گزشتہ روز پیرس میں اوورسیز اسپتال منڈی بہاؤالدین کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں سول سوسائٹی کاروباری شخصیات اور مقامی این جی اوز کے نمائندگان نے شرکت کر کے دل کھول کر اسی وقت عطیات دینے کے اعلانات کئے اور دو گھنٹوں میں ایک لاکھ 83 ہزار کے فنڈز اکھٹے ہوئے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے.

اس موقع پر معروف سماجی کارکن اوراوورسیز اسپتال کے روح رواں ناصر عباس تارڑ اور اعجاز بابر ساہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان پیدا ہی انسانیت کی خدمت کے لیے ہوا ہے ، دکھی انسانیت کی خدمت اور بے سہاروں کا سہارا بن جانا،محتاجوں کی خدمت کرنا افضل عبادت ہے۔ اپنی ذات اور اپنے خاندان کی فلاح و بہبود کے لئے تو ہرآدمی محنت کرتا ہے لیکن عظیم ہوتے ہیں وہ انسان جو اپنی زندگی دوسروں کے لئے وقف کردیتے ہیں.

منڈی بہائوالدین کے ڈاکٹرز کے فون نمبرز

انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک معالج کا کردار کسی بھی تعریف کا محتاج نہیں چونکہ ایک اچھا معالج وہ ہے جو مریض کی بیماری کی مکمل تشخیص کے ساتھ ساتھ اس کے علاج کے لئے بہترادویات تجویز کرے ، ہم نے انہی بنیادوں پر کام کیا اور باہمی مشورے سے اوورسیز اسپتال کی بنیادرکھی تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات ان کے قریبی علاقے میں فراہم کی جا سکیں اور عام لوگوں کوصحت کی بہتر اور سستی سہولیات مہیا کی جائیں۔

انھوں نے کہا کہ منڈی بہاؤالدین ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے ، ہمارے اوورسیز پاکستانی اپنے بچوں ، بزرگوں اورعزیز و اقارب کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں، انھیں تعلیم صحت و دیگر صحت مند سہولیات میسر نہیں ہوتیں اسی لیے آج ہم اکھٹے ہوئے تاکہ اپنوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے مثبت اور پائیدار سسٹم بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہائوالدین میں دیکھا ہم نے شاتک

آج کی تقریب میں شرکاء نے دل کھول کر مدد کی جو ایک خوش آئند قدم ہے یہ سلسلہ جاری رہاتو ہم سب مل کر منڈی بہاؤالدین کو پیرس بنا کر دم لیں گے ، تقریب سے برطانوی سماجی شخصیت عبدالرؤف نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں شریک افراد کا اپنے علاقے سے لگاؤ اور اپنی عوام سے محبت دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھا ہے وہ قومیں جو ترقی کرنا چاہتی ہیںیا انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہیں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتیں آپ آج اسپتال اور اس کے بعدبڑے منصوبے بنائیں گے جس سے پاکستان ترقی کرے گا وہاں کی عوام خوشحال ہو گی اور اوورسیز کانام اور مقام گونجے گا.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ ناصر تارڑ اور ظفر تارڑ کاریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے اور داد رسی کی ہے، اعلی ٰکردارکی حامل شخصیت انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور ان کا مقصد حیات صرف دکھی ا نسانیت کے دکھ دور کرنا ہوتا ہے، یہ لوگ ملک و قوم کیلئے اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں، آج تارڑ برادرز اور ان کے ساتھی فلاحی کام کر کے عوام اور اپنے علاقے کی مشکلات کے حل کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ہمیں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا.

تقریب میں شریک افراد نے مشورے اور تجاویز دیں اور ایک فلاحی اسپتال کی تعمیر کو منڈی بہاؤالدین کے لئے ایک اہم اور فوری ضرورت قرار دیا، انھوں نے کہا انسانی زندگی کے اس مختصر دورانیے کو بہتر آسان اورخوشحال بنا کر بنی نوع انسان کو اس شرف انسانیت سے ہمکنار کر سکتے ہیں جو انسان کو دنیا میںبھیجنے کا اللہ کا مقصد تھا، ہمیں انسانی فلاح کے لیے اکھٹے ہو کر کام کرنا ہو گا.

اس موقع پر جنیدریاض تارڑ، تصور تارڑ ، اشفاق جٹ ، زاہد احمد چشتی ، سرفراز احمد راں ، امتیاز سکندر گوندل ، الیاسرانجھا، افتخار نواز ، ماسٹر گلزار ، ڈاکٹر گلزار ، طاہر ساجد ساہی، طارق عزیز ، عارف جیتی ، افضل احمد مختیار کالے، منشاء ساہی ، عصمت اللہ تارڑ نے کہا کہ فلاحی اسپتال بھی مثالی ضلع کی طرح بنایا جائے گا تاکہ اپنی عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم ہوں .

تقریب سے ظفر تارڑ ، افتخار نواز ، تصور تارڑ نے پندرہ پندرہ ہزار یورو دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نفسا نفسی کے اس دور میں غرباء اور مساکین کی عبادت ایک اہم فریضہ ہے ہمیں اپنوں کی خدمت کے لیے جینے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے، اوورسیز اسپتال کے قیام سے ہماری نسلیں مستفید ہوں گی غرباء اور ضرورت مند افراد کا علاج فری ہوگا.

علاقے میں صحت افزاء سرگرمیاں شروع کی جائیں گی تاکہ وہاں کے عوام کو پیرس جیسی سہولیات فراہم ہوں، اور رفتہ رفتہ ملک بھر میں یہ سلسلہ جاری ہو جائے، ہم اس نیک مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیںگے بلکہ عہد کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔

attique ur rehman

اپنا تبصرہ بھیجیں