dhq hospital mandi bahauddin

منڈی بہاؤالدین کی 2 لاکھ آبادی کے لیے بنایا گیا ڈی ایچ کیو اسپتال شہریوں کی جانوں سے کھیلنے لگا

منڈی بہاؤالدین 2 لاکھ کی آبادی کے لیے بنائے گئے ڈی ایچ کیو اسپتال انتظامیہ کی عدم توجہ کی وجہ سے شہریوں کی جانوں سے کھیلنے لگا. دوسری جانب کوئی بھی سیاستدان اس ڈی ایچ کیو پر بات کرنے کو تیار ہی نہیں

منڈی بہاءالدین (‌طلعت محمود 31 اکتوبر 2022) 2 لاکھ کی عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے دوسری جانب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو رہا ہے کہ جب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لواحقین کی جانب سے مریضوں کو ریفر کرنے کا کہا جاتا ہے تو ریسکیو 1122 جب مریض کو گجرات لے کر جاتے ہیں تو ریسکیو سے مریض کو ریسیو ہی نہیں کیا جا رہا ہے.

یہ بھی پڑھیں: ہسپتال عملہ کی مبینہ غفلت، دوران زچگی نومولود بچہ جاں بحق

گجرات میں پہلے ہی بہت زیادہ مریضوں کا ایمرجنسی میں رش ہے شہر سے دور ڈی ایچ کیو اسپتال میں صرف لوگ اس لیے جاتے ہیں کہ وہاں پے ان کا مفت علاج ہو سکے لیکن وہاں بھی انہیں ذلیل و خوار کر کے بگا دیا جاتا ہے یا اتنا مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ خود ہی مریض کو لے کر وہاں سے سے چلے جاتے ہیں ہیں کیونکہ کوئی بھی اپنے کسی پیارے کو ایسے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا

لیکن انتظامیہ اور سیاستدانوں کی بے حسی اپنی جگہ ادویات نہیں سہولیات نہیں لیکن ڈاکٹروں کی لاکھوں کی تنخواہیں ایم ایس کی لاکھوں روپے تنخواہ سی ای او اور دفتری عملے کی تنخواہوں بروقت مل رہی ہیں مل نہیں رہی تو طبی سہولیات نہیں مل رہی لوگوں کو

اپنا تبصرہ بھیجیں