dollar

ڈالر کی حقیقی قدر 295 روپے ہو چکی

حکومت نے ڈالر کی قدر مصنوعی طریقے سے روک رکھی ہے، ڈالر کو مصنوعی طریقے سے روک کر معیشت تباہ کی جا رہی ہے، اس اقدام سے ترسیلات زر اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں: ڈاکٹر حفیظ پاشا

لاہور (تازہ ترین۔ 17جنوری 2022ء) ڈاکٹر حفیظ پاشا نے لاہور میں تاجروں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کے حوالے سے تشویش ناک انکشاف کیا۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ اس وقت روپے کی اصل قدر 295 روپے ہے جو حکومت نے مصنوعی طریقے سے روک رکھی ہے، ڈالر کو مصنوعی طریقے سے روک کر معیشت تباہ کی جا رہی ہے، اس اقدام سے ترسیلات زر اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالات خراب ہیں، بڑے اقدامات نہ اٹھائے تو نظام نہیں چل سکے گا، اصل خرابی پچھلے سات آٹھ سال میں سامنے آئی جب قرضوں کا حجم 130 ارب ڈالر پر چلاگیا، ہم نے درآمدات بڑھانے کے لیے ڈیوٹیوں کی شرح خطرناک حدتک کمی کی، افسوس بڑے جاگیردار صرف تین ارب ٹیکس دیتے ہیں جبکہ غریب کھانے پینے کی اشیاء پر 120 ارب ٹیکس دیتے ہیں۔

یہاں واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ بھی کچھ روز قبل انکشاف کر چکے کہ مارکیٹ میں ڈالر کی حقیقی قدر 260 روپے ہے، جبکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت 270 روپے پر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکسچینج ڈیلروں نے ڈالر کی ایڈوانس بکنگ شروع کردی، بلیک میں ڈالر کی قیمت 260روپے ہو گئی۔

بتایا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ایکسچینج ڈیلرز نے ڈالر کی نقد ادائیگی کے بجائے گاہکوں سے ایڈوانس رقم پکڑ رہے ہیں اورانہیں کہا جارہا ہے کہ فی الوقت ڈالر دستیاب نہیں جیسے ہی دستیابی ہو گی آپ کو بذریعہ فون بلا کر ادائیگی کردیں گے۔ ڈالر وں کی قلت کی وجہ سے بیرون ملک سفر، علاج اور تعلیم کے لئے روانہ ہونے والے افراد کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے ڈالر اسٹاک کر لئے گئے ہیں اور بلیک میں اس کی قیمت 260روپے تک پہنچ گئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں