mandi bahauddin news today

قائد اعظم سٹیڈیم منڈی بہاوالدین کے نیچے قائم دکانیں کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگیں

ایک طرف تو ہمارے سیاسی قائدین کی طرف سے عوامی خدمت کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر دوسری طرف یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس ملک کو کروڑوں کا نقصان پہنچاتے ہیں

منڈی بہاءالدین (ڈسٹرکٹ بیورو چیف) تقریباً 8 سال پہلے جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے گورنمنٹ پنجاب کے فنڈ سے کروڑوں روپے لگا کر قائد اعظم سٹیڈیم منڈی بہاوالدین کے نیچے 50 دکانیں بنائی گئیں جو آج تک خالی پڑی ہیں اور دن بدن کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں

منڈی شہر جہاں پر دکانوں کے پورے پنجاب سے زیادہ کرائے ہیں کاروباری حضرات کو کرایہ پر دکان نہیں مل رہی وہاں پر شہر کے درمیان واقع 50 دکانیں گزشتہ آٹھ سال سے خالی سمجھ سے باہر ہے اس وقت کی ایم پی اے پی پی 65 محترمہ حمیدہ وحید الدین جو آج تک مسلسل اس حلقے سے ایم پی اے ہیں اور منڈی بہاوالدین شہر کے ایم این اے حاجی امتیاز کو بار بار نشاہدھی کے باوجود آج تک یہ دکانیں خالی ہیں

ن لیگ اور پی ٹی آئی اپنے ورکروں میں یہ دکانیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں جس وجہ سے یہ دکانیں سیاست کی نظر ہو گئیں اور آج تک ان کا اوپن نیلامی نہ ہو سکی

اپنا تبصرہ بھیجیں