we love Mandi Bahauddin

گجرات یونیورسٹی منڈی بہاؤالدین کیمپس کی زمین کی خریداری کامعاملہ حکام کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا

منڈی بہاوالدین(بیورورپورٹ)گجرات یونیورسٹی منڈی بہاؤالدین کیمپس کی زمین کی خریداری کامعاملہ اعلی حکام کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا، ضلع کی 22 لاکھ آبادی کے رہائشی لاکھوں طالب علموں کیلئے انکے گھر کی دہلیز پربننے والی اعلی تعلیم کی درس گاہ رسہ کشی اورمحاذآرائی کاشکارہوگئی.

چیلیانوالہ کے رہائشی ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان یونیورسٹی کو اپنے گاوں کی طرف بنانے کیلئے باضدہوگئے، جبکہ ڈپٹی کمشنر نے اسکی تعمیرکیلئے بھکھی شریف کے قریب 100 ایکڑ زمین پرمنظوری دیکرجگہ کو فائنل کر دیامقامی سیاسی شخصیات کی عدم دلچسپی کے باعث سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب کی وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر 16 ستمبر کوزمین کی خریداری کیلئے مزید ساڑھے 13 کروڑ روپے کی گرانٹ منظوری کی گئی لیکن تاحال میٹنگ کے منٹس نہیں لکھے جاسکے. جس کی وجہ سے زمین کی خریدری کا معاملہ زیر التواء ہوگیاہے.

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاءالدین میں‌یونیورسٹی اور سڑکوں کی تعمیر کے میگا پروجیکٹ کیلئے فنڈرز جاری

یادرہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 20 کروڑروپے کی خطیررقم گذشتہ ایک سال سے اسسٹنٹ کمشنر منڈی بہاوالدین کے سرکاری اکاوئنٹ میں زمین کی خریداری کیلئے دی جاچکی ہے لیکن جب تک ساڑھے تیرہ کروڑروپے کی مزیدرقم فراہم نہیں کی جاتی زمین کی خریداری کاعمل شروع نہیں ہوسکے گا.

انجمن تحفظ حقوق شہریاں کے ضلعی صدر بابومحمدیامین ایڈووکیٹ، منظورالحق خیال، شیخ اعجاز احمداوردیگرنے اس صورتحال پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اعلی تعلیم کی درس گاہ کے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک روانہ رکھاجارہاہے انہوں نے وزیراعلی پنجاب پرویزالہی سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس عمل کومکمل کروانے میں اپناکرداراداکریں

اپنا تبصرہ بھیجیں