dollar

ڈالر مزید کتنا سستا ہوسکتا ہے؟

روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک روز کے دوران تاریخی کمی ہوئی ہے جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر مزید سستا بھی ہوسکتا ہے۔

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں بدھ کو جس طرح غیر معمولی انداز میں ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوا اس کے بعد اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ڈالر کی قدر مزید کتنا گر سکتی ہے؟کرنسی ڈیلرز کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں بھی ڈالر کی قدر میں کمی آنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور امید ہے کہ اگست کے آخر تک ڈالر 200روپے کی سطح پر آجائے گا۔

فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے سماء ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے امریکی حکام سے رابطے کے بعد امید ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط جلد جاری ہوجائے گی انہوں نے کہا ڈالر کی قدر مصنوعی انداز میں بڑھائی گئی تھی،ڈالر کی اصل ویلیو 180روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور اسی سے ڈالر بڑھ کراتنی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر مجموعی قرضہ کتنا ہے؟ اعداد و شمار سامنے آگئے

ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اسٹیٹ بینک اور دیگر حکومتی اداروں کی عدم توجہی کے باعث انٹر بینک میں بڑے پیمانے پر سٹہ بازی کی وجہ سے ڈالرا س قدر بلندی پر پہنچ گیا تھا تاہم حکومتی ادارے اب متحرک ہوگئے ہیں جس کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی شروع ہوگئی ہے.

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے اسی طرح فعال رہے تو ڈالر رواں ماہ کے آخر تک 200روپے کی سطح پرآجائے گا اور اسکے بعد بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ حکومت نے سستی کا مظاہرہ کیا تو صورتحال پھر خراب ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بھی بدھ کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے کرنسی مارکیٹ کی نگرانی سخت کی جارہی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق دو ایکس چینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی بھی کی جارہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں