AC Mandi Bahauddin

بیورو کریسی کا زوال ؟ (تحریر: آصف بٹ)

بیوروکریسی کا زوال؟

پنجاب کی تاریخ میں شاید پہلی باریہ واقع پیش آیا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کو اس کے اپنے ہی ضلع کی عدالت کے سربراہ نے گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہو۔ یہ بڑا ہی غیر معمولی واقع ہے جس کے پس منظر میں کئی محرکات ہیں جن کو سامنے لائے بغیرافسر شاہی کی زوال پذیری کے اسباب جاننا شاید مشکل ہوگا۔

اکثر دیکھا گیا ہےکہ مختلف اداروں کے لوگ اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ منڈی بہائوالدین کیس سیدھا سادہ معاملات کی ہینڈلنگ کا ایشو ہے، لیگل ایشو تو اس میں تھا کوئی نہیں۔ بات پھر وہی آتی ہے کہ جب سیاسی سفارشوں پر یا پھر پیسے دے کر ڈپٹی کمشنر تعینات ہوتے ہیں تو بعض نالائقوں کی وجہ سے حکومت کو تو پھر شرمندگی اٹھانا ہی پڑتی ہے۔ مجھے کئی سینئر افسران نےبتایا کہ جب وہ کہیں ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئے تو انہیں بھی بعض اوقات بالکل ایسے ہی واقعات کا سامنا کرناپڑا، لیکن سیشن جج کوبھی عزت چاہیے ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتظامیہ سارے کام اپنی مرضی سے ہی کرتی ہے لیکن بعض اوقات منڈی بہائوالدین کیس جیسی صورتحال میں ڈپٹی کمشنر خودسیشن ججز کے پاس چلے گئے اور معاملہ فہمی سے چیزوں کو اچھے طریقے سے حل کیا ۔

ویسے تو ہر ادارے کو ہی اپنے اختیارات کا استعمال کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے جو بدقسمتی سے ایسی سوچ سے بعض اوقات عاری ہوتے ہیں۔ افسر شاہی کے زوال میں بڑا کردار سیاسی لوگوں کا تو ہے ہی لیکن بیورو کریسی خودبھی اس کی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ افسران کی صحیح جگہوں پر اہلیت کے مطابق تعیناتیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔ سیاسی مداخلت سے ایس اینڈ جی اے ڈی ایک پوسٹ آفس بن کر رہ گیا ہے۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے کافی حد کوشش کی ہے کہ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں دیکھ بھال کر دیانتدار اور اہل افسران کی فہرستوں کو اچھی طرح کھنگال کر کی جائیں لیکن شاید کئی مصلحتوں کے سامنے بسا اوقات وہ غیر ضروری مزاحمت سے گریز کرتے ہیں۔ فوج میں جب کسی لیفٹیننٹ کرنل کو یونٹ کمانڈ کرنے کے لئے منتخب کیا جاتا ہے تو جو افسر بطور کیپٹن جی تھری یا پھر کسی بریگیڈ کا بریگیڈ میجر رہا ہو ،کو بطور کمانڈ افسر ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی ایسے بندے کو کمانڈ دے دی جائے جو اس کا اہل نہ ہو۔

ڈپٹی کمشنر کی پوسٹ پر گریڈ 19 کا افسر تعینات ہونا چاہیے اور خاص طور پر ای ڈی او ریونیو، ایڈیشنل کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کوآرڈینشن سمیت ایسی جگہوں پر کام کر چکا ہو جس میں اس نے کئی موقعوں پر فائر فائٹنگ کی ہو۔ 39 ویں اور 40 ویں کامن کے جونیئر افسر جن میں بعض نہ کبھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نہ کبھی اے ڈی سی (ہیڈ کوارٹر) اور نہ کبھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) رہے کو آپ نےسیاسی سفارشوں پر ڈپٹی کمشنر لگا دیا۔میں نے کئی کمشنروں کے دفتروں میں سیشن ججوں کو آ کربیٹھے دیکھا ہے جوبعض اوقات افسروں سے مشورے کر رہے ہوتے ہیں،جس کی وجہ تجربہ، عقل اور معاملات کی سوجھ بوجھ ہے۔ سنیارٹی نہ ہو اور اعلیٰ افسران کے ساتھ کام کرنےکا تجربہ نہ ہو تو پھر حالات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ سیاسی سفارشوں پر کئی اہم ترین اضلاع کے ڈپٹی کمشنر جونیئر افسران لگائے گئے ہیں۔

لاہور جو کہ صوبائی ہیڈ کوارٹر ہے کے گریڈ 18 کے ڈپٹی کمشنر عمر شیر چٹھہ 39ویں کامن سے ہیں جبکہ یہاں کم از کم گریڈ 19 اور آئیڈیل طور پر گریڈ 20 میں ہونا چاہیے۔ یہ میانوالی میں ڈپٹی کمشنر رہے جہاں سے ہمارے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔اسی طرح خانیوال کے ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی بھی 18 ویں گریڈ کے افسر ہیں جنہیں پنجاب کے ’’سرپرست اعلیٰ‘‘ کے سسرال کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے سابق پی ایس او علی اعجاز بھی گریڈ 18 کے جونیئر افسر ہیں جنہیںپہلے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان لگایا گیا اب وہ اوکاڑہ کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔

راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر محمد علی بھی جونیئر افسر ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے پی ایس او رہے جس کے بعد انہیں پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کا ڈپٹی کمشنرلگایا گیا اور اب وہ راولپنڈی جسے (گیریژن سٹی) کہا جاتا ہے کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ لاہور،فیصل آباد اور راولپنڈی بڑے میٹروپولیٹن شہر ہیں۔ وہاں کم از کم گریڈ 19 کا ڈپٹی کمشنر ہونا چاہیے جس نے سینئر مینجمنٹ کورس پاس کر رکھا ہو اور گریڈ 20 میں پروموشن کا منتظر ہو۔ 18 ویں گریڈ کے ہی ایک اور افسر عامر کریم جو کہ وزیر اعلیٰ کے پی ایس او رہے کو جنوبی پنجاب کے ہیڈ کوارٹر ملتان کا نامعلوم وجوہات کی بنا پر ڈپٹی کمشنر تعینات کردیا گیا۔ پنجاب کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز والے اہم اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سینئر افسر لگنے چاہئیں جنہوں نے سینئر مینجمنٹ کورس کر رکھے ہوں۔

ڈپٹی کمشنر منڈی بہائوالدین طارق علی بسرا کی بھی سفارش تگڑی لگتی ہے۔ وہ اس سے قبل تگڑی پوسٹوں پر تعینات رہے ہیں جن میں ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل اسسٹنٹ، پھر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (پی ایچ اے) رہے ہیں۔ انکے پاس ڈی جی پی ایچ اے کا چارج بھی رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ملتان عامر کریم کے خلاف ہائوسنگ سوسائٹیوں کی طرف رنگ روڈ کا رخ موڑنے کی شکایت بھی ہےجس پر انکوائری ہو رہی ہے۔

سابق ڈپٹی کمشنر وہاڑی مبین الٰہی کمیٹی میں اپنا بیان بھجوا چکے ہیں کہ انہوں نے بوریوالہ رنگ روڈ کی الاٹمنٹ کچھ اور دی تھی۔ اسکے علاوہ بھی کئی ہوشربا چیزیں عامر کریم کیخلاف ہیں جو بہرحال (MANAGE) ہو چکی ہیں۔ 18 ویں گریڈ کے افسر ہیں اور ان کے پاس 19ویں گریڈ کا آفیشٹنگ چارج ہے لیکن پھر بھی ڈپٹی کمشنر ملتان ہیں۔ یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ اہم تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت سے تباہی ہو رہی ہے۔ سفارش سے تعینات ہونے والا بیورو کریٹ سیاسی طور پر اپنی الاٹمنٹ کرالیتا ہے جو افسر شاہی میں انحطاط کی بڑی وجہ ہے۔

تحریر: آصف بٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں