agriculture

جدید ٹیکنالوجی، کھادوں کے متوازن استعمال سے زیتون کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے، ہیڈ آف سی فورٹ

پاکستان کی زمینیں زیتون کی پیداوار کیلئے بہت موزوں ہیں اور ہم زیتون کی پیداوارمیں خود کفالت کی طرف گامزن ہیں۔2028 تک باکستان نہ صرف زیتون کے تیل کی پیداوار میں خود کفالت حا صل کر چکا ہو گا بلکہ اس کی ایکسپورٹ کر رہا ہو گا۔

منڈی بہاﺅالدین (ایم.بی.ڈین نیوز 10نومبر 2022 ) ان خیالات کا اظہار ہیڈ آف سی فورٹ، پنجاب ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی نے مقامی میرج ہال میں ایف ایف سی کے زیر اہتمام زیتون کی منافع بخش کاشت کے موضوع پر منعقد ہونیوالے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایف ایف سی کے زرعی شعبہ کے انچارج عبدالحمید لودھی نے بتایا کہ کھادوں کے متوازن استعمال کے زریعے پاکستان میں زیتون کی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر اور تجزیہ زمین کی روشنی میں کھادوں کے متوازن استعمال کے ذریعے زیتون کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف ایف سی پاکستان میں 37 لاکھ ٹن سے زیادہ کھاد بنانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں زرعی ماہرین کی ایک ٹیم کے ذریعے کا شتکاروں کی عملی تربیت کیلئے بھی سرگرم عمل ہے۔یہ سیمینار بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

ڈپٹی منیجر فارم ایڈوائزری سینٹر سرگودھاطارق جاوید نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ زیتون کی کاشت والے علاقوں میں زمینوں میں فاسفورس، پوٹاشیم، نائٹروجن، زنک اور بوران کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔ فاسفورس اور نائٹروجن کی کمی 100 فیصد علاقوں میں پائی گئی ہے۔جبکہ پوٹاشیم، زنک اور بوران کی کمی بلترتیب 85، 95 اور 94 فیصد ھے۔ کھادوں کے متوازن استعمال کے ذریعے ہی زیتون کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ایف ایف سی کے زرعی ماہر حسن رضا نے بتایا کہ غذائی عناصر کی کمی کو دور کرنے کیلئے نامیاتی کھادوں کے ساتھ ساتھ کیمیائی کھادوں کا بھی استعمال ضرور کریں۔ انہوں نے اجزائے کبیرہ اور اجزائے صغیرہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ زیتون کی 60 من یاا س سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے6 بوری یوریا، 6 بوری ایس او پی، اور 3 سے 4 بوری ڈی اے پی کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 200 گرام سونا زنک اور 30 گرام سونا بوران کھاد بھی فی پودا کے حساب سے استعمال کریں۔

ڈائریکٹر باری شیراز علی نے بتایا کہ زیتون کی کاشت والے علاقوں کی زمینوں میں فاسفورس، پوٹاشیم، نائٹروجن، زنک اور بوران کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے، اس لئے کھادوں کا استعمال ایف ایف سی کے تجزیہ زمین کی روشنی میں کریں۔ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سید شاہد افتخار بخاری نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ ایف ایف سی کے زرعی تربیتی پروگرام کا حصہ بن کر اپنی زیتون کی پیداوار میں دوگنا اضافہ کریں۔ انہوں نے ایف ایف سی کے بہترین پروگرام کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں