ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی سرگرمیاں اور سیاحت بحال

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی ہدایات اور اعلان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اور سیاحتی سرگرمیاں مرحلہ وار بحال ہوگئی ہیں۔

این سی او سی کے اعلانات کی روشنی میں پنجاب کے16 ، خیبر پختونخوا کے 21 اور بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ تمام اضلاع میں تعلیمی اور سیاحتی سرگرمیاں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرنے کی شرط پر بحال ہوگئی ہیں تاہم اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور سندھ بھر میں بدستور پابندیاں عائد ہیں۔ 19 مئی کو این سی او سی نے ملک بھر میں کورونا کیسز کا جائزہ لینے کے بعد 5 فیصد سے کم مثبت شرح کے حامل اضلاع میں 24 مئی سے آؤٹ ڈور ریسٹورنٹس اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر شعبوں کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

این سی او سی کے اعلان کے تحت جن اضلاع میں کوویڈ مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے کم ہوگی وہاں آج سے تعلیمی ادارے مشروط کھول دیے گئے ہیں، آؤٹ ڈور ریسٹورنٹس رات 12بجے تک جب کہ کھانا ساتھ لے جانے کی سہولت 24 گھنٹے دستیاب ہوگی، سیاحت کا شعبہ کووڈ ایس او پیز کی مکمل پاسداری کے ساتھ کھول دیا گیا ہے۔

دوسری جانب 27 مئی کو جائزہ لینے کے بعد یکم جون سے کھلے مقامات میں شادی کی تقریبات کی اجازت ہوگی تاہم شرکا کی تعداد 150 تک محدود ہوگی، جو تعلیمی ادارے 24 مئی کو نہیں کھلے ہوں وہ بھی 7 جون کو کھلیں گے، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے تمام امتحانات 20 جون کے بعد منعقد ہوں گے۔

پابندیاں برقرار
این سی او سی نے ہوٹلوں کے اندر کھانے سمیت کھیل، میلے، ثقافتی، موسیقی اور دیگر پروگراموں پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ تمام مزارات، سینما گھر ، پارکس اور انڈور جم بھی بدستور بند رہیں گے تاہم ایس او پیز پر سختی کے ساتھ ٹریکس پر واکنگ اور جوگنگ کی اجازت ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں