shahbaz sharif audio leak

“عمران خان کے پاس صحت کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں، اسے بند کر دیں”

لاہور(تازہ ترین۔ 26 ستمبر 2022ء) مبینہ طور پر فنڈز کی کمی کا بہانہ کر کے صحت کارڈ منصوبہ بند کروانے کوشش، مریم نواز اور وزیر اعظم کی مبینہ بات چیت کی آڈیو لیک ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی مبینہ بات چیت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لیک ہونے والی آڈیو میں مبینہ طور پر مریم نواز فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر تحریک انصاف حکومت کے صحت کارڈ منصوبے کو بند کرنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ لیک ہونے والی آڈیو میں مریم نواز مبینہ طور پر کہتی ہیں کہ عمران خان کے پاس صحت کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اسے بند کر دیں۔ جبکہ اس کے جواب میں وزیر اعظم مبینہ طور پر کہتے ہیں کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

Sehat Insaf Card Hospitals List – Complete & Updated (2022)

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم دفتر کی گفتگو ہیکنگ اندر کے بندے کے بغیر ہونہیں سکتی،ہیکر کہتا ہے 140گھنٹے کی ریکارڈنگ موجود ہے، یہ کوئی فون ریکارڈنگ نہیں بلکہ پوری آفس کی گفتگو ہیک کی گئی ہے،خبر یہ بھی ہے کہ حکومت نے ہیکر سے رابطہ کیا کہ ریکارڈنگ ہمیں فروخت کردیں، اب پتا نہیں اس میں کتنی صداقت ہے۔

انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے دو حصے ہیں ، ایک حصہ سیاسی نہیں انتظامی ہے، ہم سمجھتے ہیں وزیراعظم کے دفتر سے اس طرح کی لیکس جانا باعث تشویش ہے، ہیکر کہتا ہے 140گھنٹے کی بات چیت کی ریکارڈنگ موجود ہے، 20اگست سے اس ہیکر نے ساری آڈیو لیکس کو ایک ڈارک ویب کے اوپر بولی پر لگایا ہوا ہے، خبریں یہ بھی ہیں کہ سب سے پہلے حکومت نے اس ہیکر سے رابطہ کیا کہ آپ فروخت نہ کریں بلکہ ہمیں دے دیں، اب پتا نہیں اس میں کتنی صداقت ہے۔

دوسری بات یہ ٹیلی فون ہیک نہیں ہے بلکہ باقاعدہ پوری آفس کی گفتگو ہیک کی گئی ہے، اس طرح کی ہیکنگ اندر کے بندے کے بغیر ہونہیں سکتی، وزیراعظم آفس کی سکیورٹی ذمہ داری آئی بی کی ہے، اس کے ساتھ اس کا پورا سکیورٹی سٹاف ہے۔اس ایشو پر نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ بلا کر حکومت نے اچھا فیصلہ کیا ہے، لیکن ابھی تک دو دن سے اوپر گزر گئے اور حکومت کا ابھی تک اس پر کوئی مئوقف نہیں آیا، جس سے تصدیق ہوگئی کہ یہ بات چیت ٹھیک ہے۔

حکومت نے ابھی تک کوئی انکوائری کا فیصلہ نہیں کیا۔وزیرداخلہ نے بیان دیا کہ وزیراعظم کا آفس تو غیرمحفوظ ہے وہاں ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے، جب ملک کا وزیرداخلہ اتنا غیرذمہ درانہ بیان دے گا تو اس سے عام آدمی کا اعتماد کہاں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کا دوسرا حصہ سیاسی ہے، بھارت سے تجارت کی ہے، وزیراعظم خود رہنمائی دے رہے ہیں کہ بھارت سے مشینری کس طرح منگوائی جائے۔ شریف فیملی کیلئے یہ نئی چیز نہیں ہے، ان کی ترجیح ہمیشہ بزنس ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں