mobile phone sim biomatric method has been changed

موبائل فون سم کی تصدیق کا نیا طریقہ کار متعارف کرادیا گیا

پاکستان میں ٹیلی کام انڈسٹری نے موبائل فون کی سم کی تصدیق کا مزید مؤثر طریقۂ کار متعارف کرا دیا، جس کے تحت اب ایک سے زائد انگلیوں کے نشانات سسٹم میں فیڈ کئے جائیں گے۔

سیلولر موبائل آپریٹرز اور نادرا نے جمعہ کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کے ہیڈ کوارٹر میں ایک معاہدے پر دستخط کئے جس کے بعد نیا نظام لاگو کردیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملٹی فنگر بایومیٹرک ویریفکیشن سسٹم (ایم بی وی ایس) کے آںے کے بعد اب سیلولر موبائل آپریٹرز کسی بھی صارف کو سم بیچتے وقت اس کی تصدیق صرف انگوٹھے سے نہیں کرسکیں گے بلکہ دوسری انگلیوں کے نشانات بھی مشین پر ثبت کرنا پڑیں گے۔

Government Announced To Provide Mobiles To Citizens In Installments

پی ٹی اے کے مطابق کمپنیوں کے پاس موجود بی وی ایس ڈیوائسز کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، اب انگوٹھے اور انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کی جا سکے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب یہ سیلولر موبائل آپریٹر کے نمائندے کی مرضی نہیں ہوگی کہ وہ صارف سے انگوٹھے یا انگلی کے نشان کا تقاضا کرے بلکہ سسٹم بتائے گا کہ کون سی انگلیوں کے نشانات ثبت کئے جائیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے جعلی ناموں پر سم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی جبکہ صارفین کے ڈیٹا اور فون سم کے استعمال کو محفوظ بنایا جا سکے گا۔ چیئرمین نادرا طارق ملک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس سے دھوکہ دہی اور جعلسازی کو ختم کیا جاسکے گا، ملٹی بایو میٹرک ویری فکیشن سسٹم جدید اور نہایت محفوظ سسٹم ہے، سسٹم انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات سے فراڈ روکنے کی استعداد رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں