mianwal ranjha mandi bahauddin

نین رانجھا: 2012ء میں منظور ہونے والے 200 کے وی کے 2 ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکے

منڈی بہاءالدین کے علاقے نین رانجھا میں 2012ء میں منظور ہونے والے 200 کے وی کے 2 ٹرانسفارمر محکمہ کے ضلعی افسران، ایس ڈی او کنسٹرکشن، ایس ڈی او کٹھیالہ شیخاں و لائن سپرٹینڈنٹ کی ملی بھگت اور نین رانجھا کے عوام کے ساتھ ذاتی عناد کی وجہ سے 2022ء میں بھی نصب نہ ہو سکے.

منڈی بہاءالدین (ڈسٹرکٹ رپورٹر) 2021ء میں ایس ڈی او آفس کٹھیالہ شیخاں اور ایس ڈی کنسٹرکشن کے ساتھ کئی بار رابطہ کرنے اور دفتر کے چکر لگانے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ ابھی تک آپ کے ٹرانسفارمر کا سامان نہیں آیا، کیانین رانجھا کے عوام بجلی کے بل ادا نہیں کرتے؟ کیا نین رانجھا پاکستان سے باہر ہے جہاں عوام کو تنگ کرنے کے لئے جان بوجھ کے عرصہ 10 سال سے نئے ٹرانسفارمر نہیں لگائے جارہے؟

ہر سال گرمیوں میں پہلے سے نصب شدہ ٹرانسفارمر اوور لوڈنگ کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کے لئے محکمہ کے لوگ پرائیویٹ مکینکس کے ساتھ ملی بھگت کرکے عوام سے لاکھوں روپے وصول کرکے ٹرانسفارمر ٹھیک کروا کے سائیڈ لائن ہو جاتے ہیں، اہل علاقہ کا کہنا ہےکہ اگر ہم بھی لائن سپرٹینڈنٹ سے لے کر ایس ڈی او سمیت اعلیٰ افسران کو منہ بولے پیسے دیں تو ہمارے ٹرانسفارمر بھی فوری نصب ہو جائیں گے.

نیا پاکستان ہو یا پرانا پاکستان یہاں رشوت اور شفارش کے بغیر محکمہ ایک میٹر تک نہیں لگاتا یہ تو ہیں ہی ٹرانسفارمر، اہل علاقہ نے چیرمین گیپکو، وزیر توانائی و بجلی اور ڈی سی منڈی بہاءالدین سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر ٹرانسفارمر تنصیب کروانے کی اپیل کی ہے تاکہ آئے روز اوور لوڈنگ کی وجہ سے کم وولٹیج اور پرانے ٹرانسفارمر خراب ہونے کی اذیت سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں