district and session court mandi bahauddin

لاہور ہائی کورٹ نے ضلعی عدالتی افسران کیلئے 308 نئی کاریں خرید لیں

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے افسران کے لیے 308 نئی کاریں خریدی ہیں جن میں سے 122 گاڑیاں پنجاب بھر کے سول ججز میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈان کو موصول دستاویز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل نے راولپنڈی، بہاولپور، گجرات، لاہور، منڈی بہاؤالدین، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راجن پور، راول پنڈی، سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور سینئر سول ججز کو خط لکھ کر بتایا ہے کہ وہ 2016 میں الاٹ کی گئی سرکاری گاڑیوں کی جگہ نئی گاڑیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ ملک کی سب سے قدیم ہائی کورٹ ہے اور اس وقت عدالت عالیہ اور اس کی ماتحت صوبائی عدلیہ کے پاس تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی تک لاہور کی پرنسپل سیٹ پر 53 ہزار 955، ملتان میں 24 ہزار 174، بہاولپور میں 11ہزار221 اور راولپنڈی بینچ میں 6ہزار412 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔

دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کی ضلعی عدلیہ نے اسی عرصے کے دوران 16 لاکھ سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا تاہم اسی عرصے کے دوران سول اور سیشن عدالتوں میں 11 لاکھ 60 ہزار نئے مقدمات دائر کیے گئے۔

دستاویز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورت نے 308 نئی خریدی گئی سوزوکی کلٹس وی ایکس ایل گاڑیوں میں سے 122 گاڑیاں سنیارٹی کی بنیاد پر ان سول ججز کو الاٹ کرنے کی اجازت دی ہے جن کے پاس اس وقت سوزوکی کلٹس ماڈل 2016 کی سرکاری گاڑیاں ہیں۔

تمام سول ججوں سے سابقہ الاٹ شدہ گاڑیاں اپنے متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں/سینئر سول ججوں کے حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور سینئر سول ججز اس بات کو یقینی بنائیں کہ سپرد کی جا رہی گاڑیاں ہر لحاظ سے اچھی کنڈیشن میں ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہے۔

سول ججوں کو کہا گیا ہے کہ وہ گاڑیوں کی اصل چابیاں، رجسٹریشن کارڈز محفوظ رکھیں اور سرکاری گاڑیوں پر کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ آویزاں کریں، ان چیزوں کی حفاظت میں ناکامی کی پر انہیں سخت تادیبی کارروائی سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

عدالتی بیوروکریسی کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ہمیشہ اپنے عملے کی سہولت کے لیے اقدامات کیے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جب کہ دیگر صوبوں کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں ایڈیشنل رجسٹرارز بی ایس 20 گریڈ دیا گیا ہے.

لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے پاس بی ایس 21 گریڈ ہے اور وہ لاہور ہائی کورت رولز ٹائم اسکیل فارمولے کے تحت وہ بی ایس 21 میں 5 سال کی سروس کے بعد وہ بی ایس 22 گریڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اسی طرح لاہور ہائی کورٹ کا عدالتی الاؤنس بھی دیگر ہائی کورٹس کے مقابلے زیادہ پرکشش تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں