لاہور ہائیکورٹ نے ایک سال گزرنے کے باوجود مبینہ طور پر مغوی شہری علی حسن کی بازیابی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو 25 فروری 2026 کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے تحریری حکم نامے شہری عثمان علی کی درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزار نے علی حسن کی بازیابی کے لیے 10 دسمبر 2024 کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ پولیس افسران کے ہمراہ پیش ہوئے۔ تحریری حکم نامے کے مطابق ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، اے آئی جی لیگل محمد سلیم چغتائی، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی پی او گجرات رانا عمر فاروق اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین عبدالرحیم شیرازی سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی حسن ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکا ہے۔ لاء آفیسر نے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست 10 دسمبر 2024 سے زیر التوا ہے اور مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا شخص اب تک بازیاب نہیں ہو سکا۔
عدالت نے انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر مزید دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگلی سماعت تک مغوی بازیاب نہ ہوا تو آئی جی پنجاب خود پیش ہو کر وجوہات بتائیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 25 فروری 2026 تک ملتوی کر دی۔
