پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جمعرات کو ڈومیسٹک کرکٹر حمزہ نذر پر 2 سال کی پابندی عائد کرتے ہوئے ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ پی سی بی کے مطابق حمزہ نذر نے ویزا کی درخواست جمع کرواتے وقت مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کیں اور کچھ اہم معلومات بھی چھپائیں۔
پی سی بی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے حمزہ نذر کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا تھا۔ کمیٹی نے حمزہ نذر کا موقف سننے اور دستیاب معلومات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ پی سی بی کو پیش کردی۔
رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پی سی بی نے حمزہ نذر کو تمام ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ سرگرمیوں سے 2 سال کے لیے معطل کر دیا اور 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ اطلاعات کے مطابق 31 سالہ حمزہ نذر کا تعلق پنجاب کے علاقے پھالیہ سے ہے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتا ہے اور آف اسپن بولنگ کرتا ہے۔
حمزہ نذر ماضی میں منڈی بہاؤالدین، لاہور ریجن بلیوز، پاکستان ریلویز، نیشنل بینک آف پاکستان انڈر 19، خان ریسرچ لیبارٹریز اور سیالکوٹ ریجن کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
انہوں نے اب تک پاکستان کی سینئر قومی ٹیم کے لیے کوئی ٹیسٹ، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا ہے تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حمزہ نذر نے 2025-26 کی پریذیڈنٹ ٹرافی میں خان ریسرچ لیبارٹریز کی نمائندگی کرتے ہوئے 6 میچوں کی 10 اننگز میں 385 رنز بنائے۔ اس دوران ان کی بیٹنگ اوسط 42.78 رہی جب کہ ان کا سب سے زیادہ اسکور 175 رنز تھا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری بھی بنائی۔
پریذیڈنٹ ٹرافی کے ایک میچ میں بھی حمزہ نذر نے غنی گلاس کلب کے خلاف 80 گیندوں پر 71 رنز کی اننگز کھیلی۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ ویزہ درخواست میں غلط معلومات فراہم کرنا، اہم حقائق کو چھپانا یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنا سنگین معاملہ ہے۔
بورڈ کے مطابق پاکستان کرکٹ سے وابستہ افراد سے دیانت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
