saudi airport

سعودی عرب : خروج نہائی پر جانے والے کتنی مدت بعد واپس آسکتے ہیں؟

ریاض: سعودی وزارت داخلہ نے غیر ملکی اقامہ ہولڈرز کے خروج وعودہ، خروج نہائی اور اقامہ کی مدت کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کی ہے۔

گزشتہ برس سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت بیرون مملکت رہتے ہوئے غیرملکی اقامہ ہولڈرز کے خروج وعودہ اور اقامہ کی مدت میں توسیع کرائی جا سکتی ہے۔ ماضی میں اقامہ ہولڈرز جب تک مملکت میں نہیں ہوتے تھے ان کے اقامے کی تجدید نہیں ہوتی تھی۔ خروج وعودہ پر جانے والوں کو لازمی طور پر مقررہ مدت کے ختم ہونے سے قبل مملکت آنا ہوتا تھا۔

ایک مقیم غیر ملکی نے جوازات سے دریافت کیا کہ اہلیہ خروج وعودہ پر گئی ہوئی ہیں جس کی مدت ختم ہونے میں ایک ہفتہ ہے کیا تین ماہ کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے؟

سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کرائی جا سکتی ہے۔ مطلوبہ توسیع کی مدت کے مطابق فیس ادا کرنے کے بعد ابشر پورٹل کے ذریعے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کی کمانڈ دیں تاہم خیال رکھیں کہ فیس جتنی مدت کے لیے جمع کرائی گئی ہے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع بھی اتنی ہی مدت کے لیے کی جائے گی۔

خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے اقامہ کی مدت کو بھی پیش نظررکھا جائے۔ ایسے افراد جو خروج وعودہ پر مملکت سے باہر ہیں اور وہ ایگزٹ ری انٹری کی مدت میں توسیع کرانے کے خواہاں ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ فیس ادا کرنے سے قبل ’سداد‘ کے ذریعے فیس جمع کرانے کے لیے ’بیرون مملکت خروج وعودہ میں توسیع‘ کے آپشن کا انتخاب کیا جائے۔

’سداد سسٹم‘ میں ایگزٹ ری انٹری کی فیس اور بیرون ملک ایگزٹ ری انٹری کی فیس کے حوالے سے دوآپشنز موجود ہیں بعض افراد لاعلمی میں صرف ایگزٹ ری انٹری کی فیس کے آپشن کو استعمال کرتے ہوئے فیس جمع کراتے ہیں جودرست نہیں جس سے ان کا مطلوبہ کام مکمل نہیں ہوتا۔

سداد سسٹم میں فیس جمع کرانے کے بعد ابشر پورٹل کے ذریعے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کی کمانڈ دینا بھی ضروری ہے محض فیس جمع کرانے سے ایگزٹ ری انٹری میں اس وقت تک توسیع نہیں ہوتی جب تک ابشر پورٹل پراس کی کمانڈ نہ دی جائے۔ خروج وعودہ کی مدت میں توسیع ہونے کے عمل کی یقین دہانی کے لیے ابشر پر چیک کیا جا سکتا ہے علاوہ ازیں جمع کی گئی فیس اگر اکاونٹ میں ہی موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کارروائی مکمل نہیں ہوئی اس میں کوئی نہ کوئی کمی رہ گئی ہے۔

ایک اور شخص نے جوازات کے ٹوئٹر پر پوچھا کہ ’دو ماہ قبل خروج نہائی پر جانے والا دوسرے ویزے پر کتنی مدت بعد آ سکتا ہے؟

سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ مملکت میں امیگریشن قوانین کے تحت اقامہ ہولڈرز وہ غیر ملکی جو فائنل ایگزٹ حاصل کر کے جاتے ہیں اور ان پر کسی قسم کی قانونی پابندی نہیں ہوتی وہ جب چاہیں دوسرے ویزے پر مملکت آ سکتے ہیں۔

قانونی پابندی کے حوالے سے امیگریشن قانون کے تحت ایسے غیر ملکی جو کسی جرم میں ملوث رہے ہوں اور عدالت سے ان پرجرم ثابت ہونے پر سزا نافذ کی گئی ہو جس کی بنیاد پر انہیں مملکت سے بے دخل کیا گیا ہو۔

ایسے افراد جنہیں قانون شکنی پر بے دخل کیا جاتا ہے انہیں مملکت کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے، جن افراد کو مملکت کے لیے بلیک لسٹ کیا جاتا ہے وہ کسی ویزے پر دوبارہ سعودی عرب نہیں آسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں