imran khan and dollar

عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے سے قبل اربوں ڈالرز کا قرض واپس کر گئے

اسلام آباد (تازہ ترین۔ 18 مئی2022ء) عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے سے قبل اربوں ڈالرز کا قرض واپس کر گئے، تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے رواں مالی سال کے 6 ماہ میں 5 ارب ڈالرز سے زائد کا قرض واپس کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 5 ارب 4 لاکھ ڈالر بیرونی قرضوں کی مد میں ادا کر دئیے۔وزارت اقتصادی امور کے مطابق ادا کی گئی رقم میں سے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر اصل قرضے اور 84 کروڑ ڈالر سود کی مد میں دیے گئے۔

وزارت اقتصادی امور کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو ساڑھے 58 کروڑ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک کو ساڑھے 51 کروڑ اور عالمی بینک کو 46کروڑ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔اس کے علاوہ مزید ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم بونڈز کی ادائیگیوں میں نکل گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سعودی عرب کا ایک ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کر دیا

دوسری جانب ڈالر کی مسلسل اونچی اڑان کے باعث صرف ڈیڑھ ماہ میں غیر ملکی قرضوں کے حجم میں 1700 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں 14 روپے 7 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال 11 اپریل کو جب موجودہ حکومت کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت ڈالر کی قیمت 182 روپے 93 پیسے کی سطح پر تھی دوسری جانب فارن ایکسچینج ایجنسی کا کاروباری کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان نے کمی نہ آنے کی وجہ ملک کی موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے اور اگر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اسی طرح غیر یقینی کیفیت کا شکار رہیں تو آنے والے دنوں میں ڈالر کی قیمت مزید بڑھنے کا امکان ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی صورتحال کو بہتر بنانے اور ڈالر کو قابو میں رکھنے کے لئے میثاق جمہوریت کے لئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی باہمی اختلافات ختم کر کے ایک جگہ بیٹھنا ہوگا لیکن بد قسمتی سے فی الحال کوئی بھی سیاسی جماعت ملک کا نہیں سوچ رہی

اپنا تبصرہ بھیجیں