tiktok on margalla hill

ٹک ٹاکر نے ویڈیو کی خاطر مارگلہ کو آگ لگادی، ویڈیو وائرل

ٹک ٹاکرز جنگلات کے دشمن بن گئے، مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں آگ لگا کر ویڈیو بناتے رہے۔ وائلڈ لائف بورڈ نے ملزمان کی نشاندہی کرلی جبکہ پولیس نے ایک ٹک ٹاکر کو ایبٹ آباد سے گرفتار کرلیا، خاتون ٹک ٹاکر سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر مقبولیت کے بھوکے نوجوان درختوں اور جنگلی جانوروں کی زندگیاں لینے پر اتر آئے، مارگلہ کے پہاڑوں میں بھڑکتی آگ کسی اور نے نہیں بلکہ ٹک ٹاکرز نے لگائی تھی۔ مارگلہ ہلز کے نیشنل پارک میں آگ لگانے کی ویڈیوز ٹھوس ثبوت کی صورت میں سامنے آگئیں، ٹک ٹاکرز کو دیا سلائی سے جنگل میں آگ لگاتے صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

وائلڈ لائف بورڈ نے 4 لڑکوں کی نشاندہی کرلی، جن کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ ایک اور ویڈیو بھی زیر گردش ہے جس میں ایک خاتون کو پہاڑ سے اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا جبکہ ان کے عقب میں پودوں میں آگ لگی نظر آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں نوجوان ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے جاں بحق

وائلڈ لائف بورڈ حکام کہتے ہیں ایبٹ آباد سے آئے سیاح ٹک ٹاکرز نے بڑے پیمانے پر جنگل جلا ڈالا، نشاندہی کے بعد لڑکوں کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ وائلڈ لائف بورڈ کا کہنا ہے کہ جنگلات میں لگی آگ کے قریب رقص کرتی ماڈل کون ہے، اس حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ خاتون ٹک ٹاکر چینی ایپ ٹک ٹاک پر ڈولی کے نام سے مشہور ہیں، جو فیشن سیلون بھی چلاتی ہیں۔ سی ڈی اے کے انوائرنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے جنگلات میں آگ لگانے والی خاتون ڈولی کیخلاف کوہسار تھانے میں مقدمے کی درخواست جمع کرادی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو زیر گردش ہے جس میں ڈولی نامی ٹک ٹاکر جنگل میں آگ لگا کر ویڈیو شوٹ کروا رہی ہے، اس ٹک ٹاکر کیخلاف لینڈ اسکیپ ایکٹ 1966ء فاریسٹ ایکٹ 1927، وائلڈ لائف ایکٹ 1979، انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1997ء اور تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ مارگلز ہلز نیشنل پارک کا علاقہ ہے، جس میں کچھ روز کے دوران آگ لگنے کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں، جس کے باعث پودوں، درختوں اور چرند پرند کو نقصان پہنچا.

اپنا تبصرہ بھیجیں