imran khan jalsa

وزیراعظم نے سینئرصحافیوں کو دھمکی آمیز خط کی تفصیلات بتادیں

وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں دھمکی آمیز خط کے مندرجات سامنے رکھ دیے۔

سینئر اینکر عمران ریاض کا کہنا ہے کہ روس سے متعلق پاکستان کے موقف سے امريکا اور يورپ خوش نہيں، خط ميں بہت جارحانہ اور سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور دورہ روس پر وزيراعظم عمران خان کو نشانہ بنايا گيا ہیں۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آئینی طور پر ممانعت ہے کہ ہم خط دکھائيں، عسکری قيادت کو خط کے مندرجات پر اعتماد ميں ليا گيا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کو موصول خط چیف جسٹس کےسامنے رکھنے کوتیار ہیں،اسدعمر

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اتوار والے دن ٹيبل ٹرن ہوجائیں گے،ايک لاکھ لوگ اتوار کو اسلام آباد آجائيں گے، اتوار والے دن100فیصد جیتنے کے چانس ہوں گے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں شریک سینئر اینکر عمران ریاض کا کہنا تھا کہ خط بھیجنے والے ملک کا خیال ہے کہ دورہ روس عمران خان کا اکيلے کا اقدام تھا اور عمران خان کو ہی موجودہ خارجہ پاليسی کا مورد الزام ٹھہرایا گیا ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامياب ہوئی تو پاکستان کی ساری غلطياں معاف کردی جائيں گی ورنہ دوسری صورت میں تعلقات ميں خرابی آئے گی۔ ذرائع کے مطابق خفیہ مراسلہ سابق سفیر اسد مجید نے امریکی اسٹیٹ سیکرٹری سے ملاقات کے بعد دفترخارجہ کو بھیجا۔ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ان کیمرا اجلاس میں بھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی مراسلے پر بریفنگ دیں گے۔

اس سے قبل وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے دھمکی آمیز خط کے مندرجات کابینہ کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے خلاف عالمی سازش کی گئی ہے،خط میں کہاگیا کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو نقصان ہوگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اتوار 27 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں ایک خط کا تذکرہ کیا تھا جس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ منگل کو پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ خط 7 مارچ کو موصول ہوا، جیسے ہی خط ملا تحریک عدم اعتماد بھی فوری پیش کردی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں