imran khan

کیا وزیراعظم اب بھی عددی اکثریت رکھتے ہیں، پارٹی پوزیشن کیا ہے؟

کراچی: وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد کا نمبر گیم دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور نمبرز تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اس میں کس کا پلڑا بھاری ہے۔ اس رپورٹ میں جانیں۔

متحدہ اپوزیشن کی جانب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد پیش کردی گئی ہے جس پر ووٹنگ 7 اپریل تک کسی بھی دن ہوسکتی ہے جس کے بعد سیاسی جوڑ توڑ اور روٹھنے منانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے استعفیٰ لیکر ق لیگ کے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کرکے ٹرپ کارڈ دیکھا دیا تھا لیکن متحدہ اپوزیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ارکان کی حمایت حاصل کرکے اس کا توڑ حاصل کرلیا۔

نوازشریف اور ترین گروپ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

اس صورت حال میں سب کی نگاہوں کا مرکز متحدہ قومی موومنٹ بن گئی جس کے 7 ارکان گیم چینجر ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے وفد کئی بار اپنی اپنی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں جت گئے۔ بالآخر متحدہ اپوزیشن نے میدان مارلیا اور ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوگئے اس طرح متحدہ اپوزیشن کے پاس زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

سابق صدر مشرف کا عمران خان کی حمایت میں ویڈیو پیغام جاری

متحدہ اپوزیشن کی ارکان کی تعداد

متحدہ اپوزیشن کے پاس اس وقت مسلم لیگ ن کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل 15، متحدہ قومی موومنٹ کے 7، بی این پی کے 4 اور دیگر 11 ارکان ہیں اس طرح مجموعی تعداد 177 بن گئی ہے۔

حکومتی ارکان کی تعداد

وزیراعظم کو تحریک انصاف کے 155 ارکان، ق لیگ کے 4، جی ڈی اے 3 جب کہ عوامی مسلم لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت حاصل ہے اس طرح مجموعی تعداد 164 بنتی ہے۔ خیال رہے کہ حکومت کی تبدیلی کے لیے 172 ووٹ کی ضرورت ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں