commissioner gujranwala

وزیر اعظم کا دورہ منڈی بہاﺅالدین: ضلع کیلئے 30ارب کا ترقیاتی پیکج (تحریر: وقار حسین)

منڈی بہاﺅالدین کیلئے 30ارب کا ترقیاتی پیکج

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب میں اقتدار سنبھالتے ہی اس عزم اور ارادے کا اعلان کیا کہ پنجاب کے ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا اور ان اضلاع کو فنڈز کے اجراءمیں برابری کا سلوک نہیں کیا گیا۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں منڈی بہاﺅالدین سمیت چھوٹے اضلاع کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں اور نئے سال کے ترقیاتی بجٹ میں ان اضلاع کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فنڈز دیے گئے ہیں۔

مالی سال 2021-22کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ضلع منڈی بہاﺅالدین کے لئے 84 نئے ترقیاتی منصوبہ جات شامل ہیں جن پر30 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی جبکہ بجٹ میں ان فنڈز کیلئے 4 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔نئے مالی سال کے بجٹ میں ضلع منڈی بہاﺅالدین کیلئے شامل پراجیکٹس کو سیکٹر وائز نظر دوڑائی جائے تو ان منصوبہ جات میں مختلف سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر کیلئے 28 سکیمز،فراہمی و نکاسی آب کے 21، لوکل گورنمنٹ کے 11، ہیلتھ کے 7، ایجوکیشن کے 5، سپورٹس ، انڈسٹریز، ایریگیشن کے متعدد منصوبہ جات شامل ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: للہ، جہلم ڈوئل کیرج وے منصوبہ کی تکمیل سے چکوال، منڈی بہاﺅالدین، گجرات اور میر پور سے رابطہ قائم ہوگا، عمران خان

منڈی بہاﺅالدین میں ترقیاتی منصوبہ جات پر نظر دوڑائی جائے تو اہم ترین پراجیکٹس میں منڈی بہاﺅالدین سے سرائے عالمگیر تک 2رویہ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے، پراجیکٹ پر 6ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے۔ منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے ، 46کلومیٹر کی سڑک کی تعمیر سے منڈی بہاﺅالدین کے رہائشیوں کو جی ٹی روڈ تک آسانی سے رسائی ممکن ہو سکے گی۔شاہراہوں کی تعمیر کا دوسرا اہم ترین پراجیکٹ پھالیہ رودڈکی تعمیر ہے، یہ سڑک شہر کے وسط سے گزرتی ہے اور منڈی بہاﺅالدین کے اہم کاروباری مراکز اسی روڈ پر واقع ہے، پھالیہ روڈ کی تعمیر سے جہاں ٹریفک کی روانی کے مسائل کا ازالہ ہو گا ، وہیں شہر میں کوباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

روڈ سیکٹر کے دیگر اہم منصوبوں پر نظر دوڑائی جاے تو 192ملین روپے لاگت سے چیلیانوالہ روڈ کی مرمت و بحالی ، 179ملین روپے لاگت سے ڈھل روڈ کی تعمیر کے منصوبہ جات بھی نیو اے ڈی پی میں شامل ہیں۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ضلع میں نکاسی و فراہمی آب سمیت 42منصوبوں پر کام کر رہاہے ۔ ان منصوبوں پر 40کروڑ روپے خرچ ہوں گے ۔ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 86میں 10کروڑ روپے لاگت سے پراجیکٹس مکمل کئے جا رہے ہیں، صوبائی اسمبلی کے حلقہ جات میں بھی سی ڈی پی پروگرام کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔

دیہی علاقوں کے مکینوں کو شہر تک آمدورفت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے آر اے پی پروگرام فیز 2کے تحت ضلع منڈی بہاﺅالدین میں 3منصوبہ جات پر تیزی سے کام جاری ہے ، پراجیکٹ پر 293.3ملین روپے خرچ ہوں گے ۔ سکول ایجوکیشن کے منصوبوں کا ذکر کیا جائے تو این اے 67اور این اے 68میں گرلز پرائمری سکول چک شہباز، ہائی سکول ریرکاوالہ، گرلز ہائی سکول ہریا ، ایلمینٹری سکول کالا شادیاں، گرلز ہائیر سیکنڈری بھکی شریف سمیت 34منصوبوں پر 112ملیں روپے خرچ ہونگے، ان منصوبوں میں سکولوں کی اپ گریڈیشن، نئے کمروں کی تعمیر، عدم دستیاب سہولیات کی فراہمی کی جائے گی۔ حکومت پاکستان کے خصوصی پروگرام ایس اے پی فیز تھری کے تحت گیپکو کی 234سکیموں پر149ملین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رسول بیراج سے لیکر مانو چک تک کارپٹ روڈ سے منڈی بہاؤالدین اورجہلم کی عوام کو سفری سہولیات حاصل ہوں گی

رسول یونیورسٹی ضلع منڈی بہاﺅالدین میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک اہم میگا پراجیکٹ ہے ، اس منصوبے پر 5ارب 88کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی ۔ رسول یونیورسٹی کے اس منصوبے میں 2اکڈیمک بلاکس، ایڈمن بلاک، لائبریری، طلباءکے لئے 4ہاسٹلز، فیکلٹی کیلئے ایک ہاسٹل ، گریڈ 18اور اس سے زائد سکیل کے اساتذہ کیلئے 15، گریڈ 15سے 17کیلئے 20اور گریڈ 11سے 14کیلئے 18رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بزدار حکومت رسول یونیورسٹی پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، فردوش عاشق اعوان

منڈی بہاﺅالدین کی عوام کو صحت عامہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی عمارت کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے ۔1ارب 22کروڑ روپے کے لاگت کے اس منصوبہ کی تکمیل سے شہریوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو سکے گا ۔ ضلع منڈی بہاﺅالدین کے شہریوں کے تاریخی ترقیاتی پیکج کے حصول کیلئے جہاں ضلعی انتظامیہ کی بھر پور کاوشیں شامل ہیں ، وہیں ان منصوبوں کو حکومتی سطح پر منظور کروانے کیلئے ¾ ضلع منڈی بہاﺅالدین سے ایم این اے حاجی امتیاز احمد چوہدری ، ایم پی ایز طارق تارڑ، گلریز افضل چن ،اتحادی جماعت ق لیگ کے ایم پی اے ساجد احمد خان بھٹی نے بھی اپنا فعال کردار ادا کیا ہے ۔

نئے ترقیاتی بجٹ میں شامل منصوبوں کی منظوری کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر محمد شاہد کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ نے مختصر ترین عرصہ میں انتظامی منظوری کے مراحل کو نا صرف اپنے دفتر سے مکمل کیا بلکہ کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور دیگر مجاز فورم سے پراجیکٹس کی انتظامی منظوری کیلئے ضلع منڈی بہاﺅالدین کا کیس نہایت کامیابی سے پیش کیا ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان 18فروری کو ضلع منڈی بہاﺅالدین کے اہم ترین دورہ کے موقع پر ضلع کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اربوں روپے لاگت کے ان پراجیکٹس کا با قاعدہ افتتاح کریں گے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پہلے ہی وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کے تحت ان منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کیلئے پر عزم ہیں اور صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبہ جات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ فیڈ بیک لیتی ہے اور جہاں کہیں مشکلات درپیش ہوں انہیں فوری طور پر دور کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ضلع منڈی بہاﺅالدین کی عوام کو توقع ہے کہ 18دسمبر کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کا منڈی بہاﺅالدین کا دورہ ضلع کی ترقی کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہو گا ۔

تحریر:
سید وقار حسین جاوید نقوی

commissioner gujranwala

اپنا تبصرہ بھیجیں