election

میں طالبِ علم…..؟ (تحریر: سنیا صفدر)

میں طالبِ علم…..؟

الفاظ لکھنے کو طالبِ علم اور پڑھنے کو بھی طالبِ علم ہیں مگر سمجھنے کو نہیں، افسوس کہ آج کے دور میں ان الفاظ کا وجود فقط برائے نام ہے۔ کتابیں خاموشی کا راگ الاپتے ہوئے کئی بار ان الفاظ کو محوِ گردش رکھتی ہیں کہ شاید آج کے دور میں بھی “عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہو” مگر نوجوان نسل اِن الفاظ سے قطعاً شناسائی نہیں رکھتی۔ حیرت ہے کہ اسکول جانے والے بچے بھی اِن الفاظ کی گہرائی سے واقف نہیں حتی کہ ان الفاظ کی موجودگی سے یکساں بےخبر ہیں۔

نصاب کو سطحی طور پر عملی جامہ پہنا لینا کہاں علم کی طلب کے زمرے میں آتا ہے۔ اور علم کی سب سے بڑی طلب تو یہ ہے کہ انسان خود شناسی کے عمل سے گزر کر خود کو منزلِ مقصود کی جانب لے جائے۔ ہم پڑھنے کے بعد لکھنے لگتے ہیں جبکہ پڑھنے کے بعد سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ علم تو وسعت ہے اور وسعت کہاں کسی کنادے یا بند کی محتاج ہوتی ہے۔ ہم نے دریا کی دریا دِلی تو سُن رکھی ہے مگر کبھی پرکھی نہیں یہی حال ہمارا علم کی طلب کی جانب ہے کہ ہم نے خود کو طالبِ علم تو گردان لیا مگر کبھی اس طلب کو جانا نہیں، وسعت نہیں بخشی۔

قائد فرماتے رہے، اقبال جگاتے رہے اور سر سید سمجھاتے رہے مگر نسلوں نے اپنا مستقبل دیکھا تو ٹچ موبائل کی سکرین کے پیچھے۔ اب کہ قائد کو کون بتائے گا کہ ہم سے مخاطب ہونا چھوڑ دیں کیونکہ اب ہم tiktok کے ٹرینڈ کے سہارے چلتے ہیں اور باڈر کے بجائے PUB G میں دشمن سے لڑتے ہیں۔

کتابوں کے ناپید ہونے کا دکھ اِک طرف مگر اِن الفاظ (طالبِ علم) کے روٹھ جانے کا خمیازہ آنے والی نجانے کتنی نسلوں کو ویراں کر دے گا۔ علم اور اِس کی طلب تو قوم کا اثاثہ ہے اور طالب علم کی خاصیت تو یہ ہے کہ وہ سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو جائے نہ کہ دشمن کے ہتھکنڈوں کے سامنے جھک جائے ۔ اب مجھے اقبال کی آہ کلامی یاد آتی ہے، اقبال فرمایا کرتے تھے

“لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی”

بحثیتِ مسلم قوم اور بحثیتِ طالبِ علم ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم قلم اور علم کی جگہ کسی اور کو دیں۔ ہم پر فرض ہے کہ علم کو بقاءِحیات تصور کریں۔

“نہیں ملتا اب کہ کوئی ہاتھ قلم والا
بھلا کیسے لکھ پائیں گے ہم کوئی قول سنہری”

تحریر :سنیا صفدر

اپنا تبصرہ بھیجیں