school bags

کیا آپکے بچے واقعی کالج پڑھنے جاتے ہیں یا!!!

لوگ پوچھتے ہیں منڈی بہاوالدین میں جرائم کیوں بڑھتے جارہے ہیں

(یہ کالج کے ساتھ 1 کوکھے کی تصویر ہے جہاں روزانہ بچے بیگ رکھ کر شہر کی طرف نکل جاتے ہیں والدین بچوں کی حاضری چیک نہیں کرتے بچہ کہاں جارہا کسی کو کچھ فکر نہیں 30000 کمانے والا باپ اپنے بچے سے پوچھ سکتا ہے بیٹا یہ 2 لاکھ کا موبائل تمہارے پاس کہاں سے آیا روز تم لارج سائز پیزہ کا اسٹیٹس لگاتے وہ کہاں سے اور کون کھلاتا اور کیوں کھلاتا خدارا آنکھیں کھولیں یہ نہ ہو دیر ہوجائے)

یہ تصویر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ بوائز کالج منڈی بہاوالدین کے شمال مشرقی کونے میں واقع ٹیکسی کاروں کے اڈہ میں واقع ایک کھوکھا کی ہے جو عموماً خالی ہوتا ہے لیکن صبح کے اوقات میں یہ طلباء کے بستوں سے بھر جاتا ہے۔ میں نے جب یہ تصویر بنائی تو وہاں اڈہ کے انچارج نے مجھے یہ بتایا کہ روزانہ یہاں سینکڑوں کی تعداد طلباء اپنے بستے رکھ کر شہر چلے جاتے ہیں اور دو بجے کے بعد آ کر اپنے بستے لیکر گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔

اڈہ کے انچارج نے مجھے یہ بھی بتایا کہ آپ نے تصویر صرف ایک کھوکھا کی بنائی ہے جبکہ یہاں پر ساری پھولوں والی دکانوں کے اندر بھی آپ کو ان طلباء کے بستے اور ان دکانوں کے باہر موجود خالی ڈیپ فریزرز میں بھی یہی بستے بھرے ہوئے نظر آئیں گے۔ ڈیپ فریزر میں ایسے طلباء اپنے بستے سٹور کرتے ہیں جنہوں نے ایک یا دو دن کے لیے شہر سے باہر جانا ہوتا ہے۔جبکہ ایسے طلباء جو صبح گھر سے کالج یا حصول علم کے بہانے کےلیے نکلتے ہیں اور دن بھر آوارہ گردی کے بعد شام کو گھر واپس جانا ہوتا ہے وہ اپنے بستے یہاں کھوکھوں میں پھینک جاتے ہیں اور واپسی جاتے ہوئے اپنے بستے بھی اٹھاتے ہیں اور اور گھر والوں کی آنکھوں میں جاکر دھول جھونکتے ہیں کہ وہ دن بھر پڑھ پڑھ کر تھک گئے ہوں۔

سب سے پہلے میری والدین سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اس سلسلے میں والدین کو بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی اپنی جان اور اپنی اولاد ہوتی ہے۔ اگر آپ کے بچے نے میٹرک پاس کر لیا ہے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ اب اسکو اپنے اچھے یا برے کا شعور بھی آ گیا ہے۔ میں نے ایسے بہت سے بچوں کو دیکھا ہے کہ ان کے میٹرک میں نمبر بہت اچھے ہیں لیکن کالج میں اساتذہ اور والدین کی طرف سے مناسب رہنمائی، تراش خراش، اور باز پرس نہ ہونے کی وجہ سے یہ بچے انٹرمیڈیٹ کے دوسال گزارنے کے بعد اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں اور باقی ماندہ زندگی معاشرے پر بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں۔

حالانکہ یہ بچے بڑے ذہین بھی تھے۔ کیونکہ میٹرک میں ان کے نو سو سے زائد نمبر انکی ذہانت کا ثبوت بھی موجود ہے۔ لیکن کالج میں داخلہ لینے کے بعد انکے گھر والوں آور والدین کی طرف سے یہ سمجھ لیا گیا کہ ان بچوں کے نمبر چونکہ میٹرک میں بہت اچھے ہیں اس لیے اب انکو اپنے اچھے اور برے کا شعور بھی آ گیا ہے اس لیے اب والدین کی طرف سے مناسب نہیں کہ ان کی دن بھر کی مصروفیات پوچھیں۔

والدین سے گزارش ہے کہ کالج میں انٹرمیڈیٹ کے دوسال ایسے ہی بچے پر نظر رکھیں جس طرح آپ نے میٹرک تک اس پر نظر رکھی تھی۔ اس کے آنے جانے کے اوقات کے ساتھ ساتھ مہینے میں کم سے کم ایک بار اس کے اساتذہ کے ساتھ رابطہ کیجئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیجیئے۔ اس سے آپ کے بچے کو بہت فائدے ملیں گے.😭 منقول 😭۔

محمد عارف
منڈی بہاءالدین

اپنا تبصرہ بھیجیں