Nasim shahid

بار اور بنچ میں ہم آہنگی۔ ایک خواب

یہ پہلی بار نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے وکلاء کو یہ نصیحت کی ہے وہ ججوں اور عدالت کا احترام کریں اس سے پہلے بھی ہر چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا ہے اور یہ سب کچھ ایک معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ حال ہی میں جو واقعہ منڈی بہاؤالدین میں پیش آیا اور کنزیومر کورٹ کے پریذائیڈنگ افسر سیشن جج راؤ عبدالجبار کو جس طرح ان کی عدالت سے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس نے تو ساری کسریں نکال دیں۔ جج صاحب کی استقامت اور حوصلہ قابل داد ہے کہ وہ پھر بھی ڈٹے رہے اور انہوں نے اپنی مدعیت میں پرچہ بھی درج کرا دیا

Lawyers torture judge who convicted DC, AC in Mandi Bahauddin

سیانے کہتے ہیں کہ ایک گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے مگر یہاں وکلاء نے اپنی عدالتوں کو بھی نہیں بخشا جن کے وسیلے سے ان کی وکالت چلتی ہے، روز گار ملتاہے۔ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی سطح پر ججوں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات پیش نہیں آتے اس کا نشانہ صرف لوئر جوڈیشری بنتی ہے اگر چیف جسٹس نے عدالتوں کا احترام کرنے کی بات کی ہے تو ظاہر ہے ان کا مطلب یہی ہے کہ وکلاء ڈسٹرکٹ میں بیٹھے ہوئے جج صاحبان کا احترام کریں۔ ان کے فیصلوں پر قانونی طریقے سے ردعمل ظاہر کریں، ایسا نہ کریں کہ ان کی حرمت اور وقار پر کوئی حرف آئے۔

مجھے یقین ہے چیف جسٹس گلزار احمد کی یہ باتیں بھی صدا بصحرا ثابت ہوں گی، جیسے ان سے پہلے کے چیف جسٹس صاحبان کی ہوتی رہی ہیں کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے نام پر چلنے والی تحریک سے جو بگاڑ پیدا ہوا ہے، وہ اب سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ ہر نئے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ایک سول جج کی یہ مجال نہیں وہ وکلاء کے ”احکامات“ کی حکم عدولی کرے۔ ایسا کرے گا تو پھر اسے لہولہان چہرے کے ساتھ نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔

کسی بھی چیف جسٹس نے جب بھی وکلاء سے خطاب کیا تو یہ جملہ ضرور کہا ”بار اور بنچ“ انصاف کی گاڑی کے دو پہئے ہیں۔ ان میں ہم آہنگی کے بغیر انصاف نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ ہر چیف جسٹس کو یہ علم ہوتا ہے کہ بار اور بنچ میں ہمیشہ ٹھنی رہی ہے ہم آہنگی تو کبھی چھو کر نہیں گزری، عدلیہ پر جب بھی یہ دباؤ آتا ہے کہ مقدمات کے فیصلے تیز کئے جائیں تو وقت کا چیف جسٹس ایک جوڈیشل پالیسی بنا دیتا ہے۔ ججوں کو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے مطابق وقت مقررہ میں مقدمات کو انجام تک پہنچائیں۔

توہین عدالت کیس میں نیا موڑ، عدالت نے اے سی کے بعد ڈپٹی کمشنر کو بھی سزا کا حکم سنا دیا

نچلی عدلیہ کے جج صاحبان ایسے حکم پر گویا ایک عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ وکلاء کو شہادتیں، بحث اور دیگر مراحل مقررہ مدت میں طے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی جج بالکل ہی سیدھا ہو اور راؤ عبدالجبار بننے کی کوشش کرے تو اس کے کس بل نکالنے کے لئے دو فیصد اکھڑ وکلاء کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ کسی ایک جج کو نشانہ بنا کر باقیوں کو یہ پیغام دے دیا جاتا ہے کہ پالیسی وہی ہے جو وکلاء کہیں گے، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوئے جج انہیں بچانے نہیں آئیں گے۔

کوئی مانے یا نہ مانے عدلیہ وکلاء کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے ہم بدقسمتی سے صرف سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کو ہی عدلیہ سمجھتے ہیں حالانکہ اصل عدلیہ تو وہ ہے جو ضلع اور تحصیل کی سطح پر کام کر رہی ہے۔ جہاں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اور سول و سیشن جج صاحبان تلوار کی دھار پر مقدمات سنتے اور فیصلے کرتے ہیں کیا آپ نے سنا ہے کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی جج کو عدالت کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو، کسی کو وکلاء نے کرسی مارنے یا جوتا دکھانے کی جرأیت کی ہو۔

اس کی وجہ یہ ہے ان دونوں عدالتوں کے پاس اختیارات ہیں، قانون کا شکنجہ فوراً تیار ہو جاتا ہے۔لیکن ایک سول جج وکلاء کے سامنے چیونٹی کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ اس پر تشدد ہو جائے تو ضلعی پولیس بھی بار کے صدر کی اجازت سے حرکت میں آتی ہے۔ وگرنہ مقدمہ درج کرتے ہوئے اس کے پیر جلتے ہیں اور یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے، وکیلوں کا وہ خود نشانہ بن جائے گا۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کسی سول یا سیشن جج سے وکلاء نے بدتمیزی کی اسے عدالت سے اٹھا کر تشدد کیا یا بھری عدالت میں اسے گالیاں دیں تو وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنے چیمبر میں چلا جاتا تھا۔

لیکن راؤ عبدالجبار کے کیس میں تو انہیں چیمبر کے اندر نشانہ بنایا گیا۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ایسے واقعات پر ججوں پر ہی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ وکلاء سے صلح صفائی کریں اور معاملے کو آگے نہ بڑھائیں وگرنہ ان کے لئے ملازمت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس ذلت و رسوئی کا اصل آغاز افتخار محمد چودھری کے دور سے ہوا جس میں عملاً عدلیہ کی کمان وکلاء کے ہاتھوں میں آ گئی، عدلیہ کے نام پر افتخار محمد چودھری نے جو بدترین سیاست کی اس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ ے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے باقی زیریں عدلیہ وکلاء کے رحم و کرم پر چھوڑ دی ہے اور ساتھ ہی یہ دباؤ بھی ڈالا ہے کہ وہ بر وقت فیصلے کرے۔ یعنی شیر کی کھچار میں رہ کر اس کے منہ سے نوالا چھیننے کی شرط لگا دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں تو سیکیورٹی بھی ہوتی ہے ور دربان بھی، سول جج تو ایک ڈربہ نما کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے اور وکیل اگر چاہے تو ہاتھ بڑھا کر اس کا گریبان بھی پکڑ سکتا ہے۔ وہاں تو یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی ماں کا لال جج ہے تو وکلاء گردی سے بچ کے دکھائے۔

ججوں کے خلاف تشدد کے واقعات گننے کی کوشش کی جائے تو گنتی ختم ہو جائے لیکن کیا کوئی ایک کیس بھی ایسا ہے جس میں کسی وکیل کو سزا ہوئی ہو یا اسے شعبہ وکالت سے ہی نکال باہر کیا گیا ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کسی ایسے ملزم وکیل کے ہمراہ دو اڑھائی سو وکلاء عدالت میں پہنچ جاتے ہیں، اب ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ کی کیا جرأیت ہے کہ وہ اتنے وکلاء کی موجودگی میں وکیل کی ضمانت نہ لے یا اس کی گرفتاری کا حکم دے ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی سول جج کے خلاف کوئی وکیل متشددانہ جرم کرے تو اس کی سماعت ہائی کورٹ میں ہو، تاکہ صحیح معنوں میں انصاف ہو سکے۔

اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، جس کی طرف چند سینئر وکلاء نے توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سول جج اور سیشن جج صاحبان تربیت کے فقدان کا شکار ہیں، وہ معاملات کو بگاڑ دیتے ہیں حالانکہ جج کا کام معاملات کو سنوارنا ہوتا ہے کئی بار کسی جج کو قواعد کا قانون کا علم نہیں ہوتا۔ وہ وکیل کی بات تحمل سے سننے کی بجائے جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اس رویئے کی وجہ سے بعض اوقات تلخی پیدا ہوتی ہے جس سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں ہمارے ہاں نظام انصاف اتنی زیادہ پیچیدگیوں کا شکار ہو چکا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے ٹھیک کر سکتا ہے۔ صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ عدالتوں کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے۔ عدالتیں تو ہائی جیک ہو چکی ہیں، بس کوئی اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کرتا، حالانکہ اس حقیقت کا علم سبھی کو ہے۔

ڈیلی پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں