کھادوں کی نئی قیمتیں مقرر، زائد قیمت پر بیچنے والے 8 دکانداروں کیخلاف ایف آئی آر درج

ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کسان کو سہولتیں فراہم کئے بغیر زرعی شعبے میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کیا جا سکتا، زرعی ایڈوائزری کمیٹی میں شامل تمام محکمہ جات زراعت کی ترقی اور وسعت کیلئے مل جل کر کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی کے 5 سالہ پروگرام کیلئے 309 ارب رکھے گئے ہیں، زیادہ سے زیادہ پیداوار اور آمدن میں اضافے کیلئے کاشت کاروں کو فصلوں پر سبسڈیز بھی فراہم کی جا رہی ہیں ۔

منڈی بہاﺅلدین( ایم.بی.ڈین نیوز 22نومبر 2021 ) ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ڈپٹی کمشنر آفس میں ضلعی زرعی ایڈوائزری اور ٹاسک فورس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر منڈی بہاﺅالدین امتیاز علی بیگ، اسسٹنٹ کمشنر پھالیہ ساجد منیر کلیار، ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد ممتاز بیگ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمداقبال، کسان بورڈ کے نمائندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔

قبل ازیں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمد اقبال نے اجلاس کوبریفنگ دیتے ہوئے معیاری کھادوں کی مقررہ قیمتوں پر فراہمی اور معیاری زرعی ادویات کی مقررہ قیمتوں پر فراہمی کے حوالے سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں سونا یوریا ایک ہزار 788 روپے بوری، یوریا ببر شیر ایک ہزار 768روپے، سونا ڈی اے پی 8ہزار 243، ببر شیرایک ہزار 788، ایف ایف سی ڈی اے پی8ہزار 193 روپے، اینگرو ڈی اے پی8ہزار171روپے ، سر سبز ڈی اے پی8ہزار244روپے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر 2021 میں172 انسپکشنز کی گئیں ،مہنگی کھادیں اور زرعی ادویات بیچنے پر8 دکانداروں کے خلاف ایف آئی آرز درج کروائی گئی ہیں جبکہ 52 ہزار50روپیہ جرمانہ بھی کیا گیا۔ انہوں نے اجلاس کو وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے پیداواری مقابلہ جات اور50 فیصد سبسڈی پر زرعی مشینری کی فراہمی کے بارے میں بھی کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

جس پرڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا کہ زرعی شعبہ ہمارے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسان کی خوشحالی کا مطلب ملک کی مجموعی ترقی ہے اور کسان کی خوشحالی اور زرعی معیشت کی مضبوطی لازم وملزوم ہیں۔ کسان بورڈ کے نمائندوں کی جانب سے کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے گزارشات بھی پیش کی گئیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو گزارشات حل کرنے کی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں