electric price in pakistan

بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے اضافے کی تیاریاں کی جا چکیں

ہم اس وقت بہت خطرناک صورتحال میں ہیں، ملک اس وقت فری فال کنڈیشن پر ہے، قرضہ ملا تو سخت شرائط ہیں اور اگر نہ ملا تو اس کے بھی اثرات ہوں گے: سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر

لاہور (تازہ ترین۔ 21 اکتوبر2021ء) بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید 4 روپے اضافہ ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے جمعرات کے روز نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے رات 8 بجے کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے اضافے کی تیاریاں کی جا چکی ہیں۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے انٹرویو میں کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے آئیں۔ رہنما پی پی کا کہنا ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں بھی مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ ہم اس وقت بہت خطرناک صورتحال میں ہیں، ملک اس وقت فری فال کنڈیشن پر ہے، قرضہ ملا تو سخت شرائط ہیں اور اگر نہ ملا تو اس کے بھی اثرات ہوں گے۔

دوسری جانب پٹرول کی قیمت بھی 200 روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ معروف ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے بدھ کے روز نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے 8 بجے کے پروگرام “ندیم ملک لائیو” میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ مذاکرات کیلئے واشنگٹن آنے سے قبل ڈالر 172 روپے کا کر کے آئیں۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مزید جھٹکوں کیلئے تیار رہیں کیوںکہ آئی ایم ایف فی لیٹر پٹرول پر 30 روپے لیویز اور 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے، جس سے پٹرول کی قیمت 200 روپے تک چلی جائے گی۔

یہاں واضح رہے کہ حکومت نے غریب شہریوں کو سستا پٹرول فراہم کرنے کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کم آمدن والوں کیلئے پٹرول پر سبسڈی پلان بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ بجلی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے مہنگے داموں معاہدے کیے جس کے سنگین نتائج کا سامنا ہے۔

حکومت جس قیمت پر بجلی خرید کر صارفین کو مہیا کررہی ہے اس میں ڈیڑھ سے دو روپے کا فرق آرہا ہے، جب اس فرق کو سالانہ استعمال ہونے والے اربوں یونٹس کے تناظر میں دیکھا جائے تو غیرمعمولی رقم بنتی ہے اور یہ ہی گردشی قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں