mamu ka beta kamran

ماموں کا بیٹا کامران: ہور سنا (تحریر: محمد ندیم اختر)

ہور سنا

میرے ماموں کا بیٹا کامران جب عمرے کے ویزے پر سعودی عرب گیا تو وہاں پر سلپ ہو گیا۔ مجھے اس کی کال آئی تومیں نے پوچھا
ہور سنا؟
اللہ کا بڑا کرم ہے وہ بولا
کام سیٹ ہے۔۔
ملک میں تازہ تازہ حکومت بدلی ہی تھی کہ ماموں کے بیٹے کامران کی کال آ گئی

اس نے پوچھا
ہور سنا
میں بولا اب چوروں، لٹیروں اورکرپٹ مافیا کی خیر نہیں۔ وہ بولا اچھا
ہور سنا
مہنگائی کم ہو گی پیسے واپس آئیں گے
غریب خوشحال ہو گا ۔
ہور سنا
میں بولا
ادارے فعال ہوں گے
وسائل کا استعمال منصفانا ہو گا۔ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

وہ بولا ہور سنا
اور اور
افرادی قوت کو استعمال میں لایا جائے گا۔ روز گار کے مواقع عام ہوں گے۔صحت و تعلیم کے مواقع عام آدمی کی دسترس میں ہوں گے۔۔
اچھا واقعی ایسی حکومت آئی ہے۔
میں بولا جی جی بالکل
وہ بولا
ہور سنا
پاکستان کے نامور سپوت ملک میں آ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔
جذبہ حب الوطنی بیدار ہو گا۔
نا کر یار
وہ بولا
میں بولا سچی یار

چل فیر ہور سنا
کارپٹ روڈز بہترین سیوریج
پکی گلیاں
سب خواب پورے ہوں گے۔
ماموں کا بیٹا کامران خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔

بولا ہور سنا
کسان خوشحال ہوں گے۔ تیل کھاد سستی ہو گی۔
جانوروں کی خصوصی نگہداشت کے لیے ہسپتال ہوں گے۔ کسانوں کو کٹے پالنے پر پیسے ملیں گے۔
لوگوں کو انڈے دینے والی ککڑیاں دی جائیں گی۔ کسان سر ہلائے بغیر انڈوں کی ٹوکری سر پر رکھ کر بازار جا کر بیجیں گے۔
وہ بولا
ہییںں
کیا کہہ رہے ہو
میں بولا قسم سے

اچھا چل فیر ہور سنا
ہر آدمی کی جیب میں صحت کارڈ ہو گا۔
جہاں ضرورت پڑی علاج کروا لیا
ہر مزدور کی جیب میں مزدور کارڈ ہو گا
ہر مزدور کو ماہانہ فنڈز ملیں گے۔۔
سچی۔۔۔ابھی ماموں کا بیٹا ہور سنا بولتا
اس کے دروازے کی بیل سنائی دیتی ہے۔

میں بولا تو سنا
وہ بولا پولس پے گئی ۔
ماموں کا بیٹا کامران غیر قانونی قیام پر گرفتار ہو گیا۔
ماموں کے بیٹے کو ملک بڑا یاد آ رہا تھا۔ نئی حکومت کے سربراہ دورے پر سعودی عرب گئے ان کی درخواست پر ماموں کا بیٹا آزاد ہو کر پاکستان آ گیا۔
آتے ہی مجھے ملا
صحت مند تگڑا لگ رہا تھا
میں بولا ہور سنا
بھائی جیل میں وہ لوگ بڑا خیال رکھتے ہیں۔ ہور سنا

سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا واہ کیا قیادت ہے۔
اب اپنے ملک میں رہوں گا جو باتیں تم نے بتائی تھی ان سے لطف لوں گا
پندرہ دن بعد اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی ۔
اس کے بال اڑے ہوئے تھے لباس پسینے سے شرابور
پریشان حال اس کے ایک ہاتھ میں ڈنڈا اور دوسرے میں انڈا تھا۔
آتے ہی دو چار پھکڑ تولے اور ڈنڈا لے کر میرے پیچھے پیچھے۔
اس کا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا۔
صرف یہ لفظ دھرا رہا تھا

ہور سنا
ہور سنا
ہور سنا
پھر ماموں کا بیٹا دولاکھ پچھتر ہزار کی ٹکٹ لے کر واپس سعودی عرب جیل چلا گیا
آج کل وہ سعودی عرب جیل میں خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔
ہور سنا

تحریر:
محمد ندیم اختر، ڈھوک کاسب، منڈی بہاءالدین

محمد ندیم اختر کے مزید تحریر پڑھنے کیلئے اس لنک پہ کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں