Raja Mansoor Khan

اجتماعی کاوشوں سے ڈینگی پر کنٹرول ممکن ہے (تحریر: راجہ منصور علی خان)

اجتماعی کاوشوں سے ڈینگی پر کنٹرول ممکن ہے
تحریر: راجہ منصور علی خان

پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں آج کل ڈینگی پھر سر اٹھا رہا ہے ۔دراصل ڈینگی ایک انفیکشن ہے جو ایک خاص وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر اس متعلق مناسب آگاہی، حفاظتی تدابیر اوراقدامات اختیار نہ کئے جائیں تو یہ عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔یہ بیماری ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے جس کی ٹانگیں عام مچھروں کی نسبت ذرالمبی ہوتی ہیں۔ کسی متاثرہ شخص کو کاٹنے سے یہ وائرس اس میں منتقل ہو جاتا ہے ۔ ڈینگی بخار عموماً ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

چار مختلف اقسام کے وائرس انسانوں میں ڈینگی بخار کا باعث بنتے ہیں۔ ایک قسم کے وائرس کا حملہ صرف ایک بار ہی ہو سکتا ہے ۔ دوسری مرتبہ ڈینگی بخار دوسری قسم کے وائرس سے ہو سکتا ہے اور یوں زندگی میں کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ چار مرتبہ یہ عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ڈینگی بخار کا دوسرا نام بریک بون فیور (Break Bone Fever) بھی ہے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا جاتا ہے کہ اس بخار کے دوران ہڈیوں اور پٹھوں میں اتنا شدید درد ہوتاہے کہ ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور یہ مرحلہ کافی تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ یہ بیماری گرم اور نیم گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے اور دنیا بھر میں 10کروڑ سے زائد افراد ہر سال اس سے متاثر ہوتے ہیں تا ہم بر وقت علاج سے اس مرض سے صحت یابی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور 99فیصد مریض اس سے مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں یعنی ایک فیصد سے بھی کم لوگوں میں یہ مہلک شکل اختیار کرتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ موسم برسات اور ڈینگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے یہ بے جانہ ہو گا کیونکہ موسم برسات آتے ہی ڈینگی مچھر بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سر اٹھانے لگتا ہے۔ خصوصاً وہ علاقے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں یا سیلاب زدہ علاقوں میں ڈینگی کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ عموماً برسات میں بارشوں کی وجہ سے جمع شدہ پانی یا کھلے برتنوں میں جمع صاف پانی میں ڈینگی مچھر پرورش پاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی بخار ایک وائرل بیماری ہے جسے ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ یہ مچھر خصوصاً طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت زیادہ کاٹتا ہے ۔ اس بیماری کا حملہ اچانک ہوتا ہے اور کچھ دنوں کیلئے اس کے اثرات جسم کے اندر موجود رہتے ہیں۔

ڈینگی مچھرز یکا اور چن گنیا جیسے امراض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5کروڑ سے زائد افراد اڈینگی بخار کا شکار ہو جاتے ہیں اور سالانہ 20ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں تا ہم بر وقت علاج سے صحت یابی کا تناسب زیادہ اور 99فیصد مریض اس سے مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے 38قسم کے مچھر ہیں۔ پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے ۔ ڈینگی مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کا جسم سیاہ ہوتا ہے جبکہ اس کی ٹانگوں اور چھاتی پر سفید دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ صاف پانی یا نیم کثیف پانی کے چھوٹے چھوٹے ذخیروں میں پیدا ہوتا ہے ۔ عام نزلے کے ساتھ شروع ہونے والا ڈینگی وائرس ، تیز بخار، سر اور آنکھوں میں شدید درد ، تمام جسم کی ہڈیوں ، گوشت یہاں تک کے جوڑوں میں شدید درد، بھوک کم ہو جانا، متلی ہونا، بلڈ پریشر کم ہونا، جسم کے اوپر والے حصے پر سرخ نشان ظاہر ہونا اس کی واضح علامات ہیں۔

اگر نوعیت شدید ہو جائے تو ناک منہ سے خون جاری ہو سکتا ہے ۔ اس مرض کی تشخیص صرف لیبارٹری میں خون کے ٹیسٹ CBCکے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افراد پر اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے ۔ یہاں اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسرے کو منتقل نہیں ہوتی بلکہ مخصوص مچھر ہی اس کے انتقال کا باعث بنتاہے ۔ اس میں ڈینگی سے متاثرہ مریض سے علیحدہ ہونے کی بجائے مچھروں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔ بعض اوقات مریض کو علیحدہ رکھا جاتا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ متاثرہ شخص کو کاٹ کر مچھر مزید بیماری پھیلانے کا باعث نہ بنیں۔

ڈینگی وائرس سے احتیاطی تدابیر کے طور ضروری ہے کہ ماحول کو خشک اور صاف رکھا جائے ، کھڑکیوں اور دروازوں پر جالی لگوائی جائے ۔ پانی کے برتن اور پانی کی ٹینکی کو ڈھانپ کر رکھاجائے ۔ فریج کی ٹرے، گملوں اور پودوں کی کیاریوں کی صفائی،کباڑخانوں اور ٹائر شاپس کی صفائی و نگرانی کا خاص خیال رکھا جائے تو بلاشبہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے ڈینگی وائرس پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔اسی تناظر میں موسم برسات کے آغاز سے قبل انسداد ڈینگی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈینگی سے بچاﺅ کیلئے حفاظتی اقدامات کو مذید موثر بنانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈینگی کنٹرول کیلئے عملے کی کارکردگی کو باریک بینی سے مانیٹر کیا جائے اور سرویلینس ٹیموں کی کارکردگی کو مذید بہتر بنایا جائے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈینگی کنٹرول اور بچاﺅ کے اقدامات میں کوتاہی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی اور غلط رپورٹ پیش کرنے پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ غیر ضروری سپرے کے نقصانات سے عوام الناس کو آگاہ کیا جائے ۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ منڈی بہاﺅالدین نے محکمہ صحت کی معاونت سے انسداد ڈینگی کے خلاف مہم کامیابی سے جاری ہے۔جس کے تحت ضلعی سطح پر ڈینگی کنٹرول اور بچاﺅ کے حوالے سے ضلع کی سطح پر امسال 45اجلاس جبکہ تحصیلوں کی سطح پر 102اجلاس منعقد کئے گئے ہیں جن کا بنیادی مقصد انسداد ڈینگی کنٹرول میں رہ جانے والی خامیوں کو دور کر کے موثر اقدامات کرنا ہیں۔جس کے تحت ضلعی اور تحصیل انتظامیہ نے ہسپتالوں اور رورل ہیلتھ سنٹروں پر ڈینگی کاﺅنٹر اور ڈینگی وارڈز قائم کر دئیے ہیں جہاں متاثرہ مریضوں کا مفت علاج معالجہ بھی کیا جارہا ہے۔

اسی تناظر میں نئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ڈینگی کے متوقع مریضوں کیلئے 8اور ٹی ایچ کیو پھالیہ میں 4، ٹی ایچ کیو ملکوال میں 5اور ہر آر ایچ سیز میں دو بیڈز مختص کر دئیے گئے ہیں۔محکمہ صحت کی انسداد ڈینگی کاوشوں کی وجہ سے ابھی تک کوئی کنفرم کیس رپورٹ نہیں ہوا ۔اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ ڈینگی مچھر پر کنٹرول کیلئے احتیاطی تدابیر ، حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کے علاوہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف اور خشک رکھنے میں حکومتی اداروںکے ساتھ تعاون کریں تا کہ اس وبا سے نجات حاصل کی جا سکے۔

Raja Mansoor Khanتحریر:
ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن، راجہ منصور علی خان

اپنا تبصرہ بھیجیں