دے اِذنِ حیات مجھے ( تحریر۔ سنیا صفدر)

دے اِذنِ حیات مجھے

جہاں بات میری تخلیق کی تھی وہاں مجھے عزت، رحمت کی بنا پہ تخلیق کیا گیا۔ پھر بات آ ٹھہری سہاروں پہ یعنی مجھے معاشرے کی آغوش میں پلنا تھا وہاں کے رسوم و رواج کی بھینٹ چڑھنا تھا جہاں مجھے نفرت و حقارت اور قدروت کی پناہ میں رہنا تھا۔ میری تخلیق نے مجھے باور کرایا کہ میرے نا ہونے سے گھر، گھر نہیں ۔نجانے زمانے کو مجھ سے کیا خلش رہی نا میرے ہونے سے گھر،گھر بنا اور نا ہی میری قربانیاں کسی حصے میں آئیں۔

معلوم نہیں حالات میرے جنم لینے سے ایسے ہوئے یا میں خود قصوروار ہوں ایسے حالات کی کہ جہاں میں نے خود ایسے وقت کے شاہوں کو جنم دیا جو مجھ پہ میری حیات تنگ کرنے کو مردانگی تصور کرتے رہے اور آج تک کرتے آ رہے ہیں۔ مجھے ہمیشہ احسان کی زمرے میں رکھا گیا، مجھے جتوایا گیا کہ ہم نہیں تو تم نہیں کہیں کوئی کسر کہیں کوئی کمی میرے وجود کا حصہ رہی

“آخرکار معیار پہ پورا نہ اترا گیا مجھ سے
ہر بار کوئی نا کوئی کمی ہی رہی……….!”

انسانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر وہ شے انسان ہونے کا درجہ رکھتی ہے جس کے دل میں احساسِ محبت ہو، مجھے لگتا تھا کہ میں تو پیکرِ محبت ہوں مگر افسوس کہ اس پیکرِ محبت کو حوس بھری نگاہوں کا مرکز سمجھا گیا ہائے افسوس کہ اس کے جسد کو باعثِ لذت سمجھا گیا۔ مانا کہ میرا وجود قابلِ نفرت و حقارت سہی کیا کہیں اس تحفظ کی کوئی دلیل ہے کہ جب مجھے تنہا گلیوں میں نکلنا پڑے وہاں کوئی مجھے گوشت کا ٹکڑا نا سمجھے ، وجہِ لذت نا سمجھے۔

اور جہاں میرا وجود تمھاری شناخت کا محتاج ہوا تو کیا یہی وہ شناخت ہے جو تم مجھے تحفتاً دیتے ہو کبھی نفرت کبھی حوس کبھی کوٹھوں کی زینت سمجھتے ہو۔ حالات کی ایسی ستم ظریفی کہ میں، میں نا رہی اپنے وجود کی تلاش میں مجھے دربدر ہونا پڑا کہاں چلے گئے میرے رہنما، میرے محافظ ، میرے چاراگر۔ میں ہمیشہ غیرت کے علمبرداروں کی زد میں رہی جہاں مجھے کالی راتوں کو بھی رنگین کہنا تھا اور ہر بات پہ آمین کہنا تھا کیا یہی میری زندگی کا محور ہے یا میرے تحفظ کا تعاون ہے۔

ہے التجا مجھے اِذنِ حیات دے مجھے خود سی شناخت دے مجھے عزت سے رخصت کر مجھے عزت کے ساتھ بیاہ کے لا، مجھے گھر کا اِک فرد سمجھ۔ ہے بس اتنی سی التجا مجھے اِذنِ حیات دے.

تحریر: سنیا صفدر

اپنا تبصرہ بھیجیں