court

منڈی بہاءالدین: والدین کی نا فرمانی پر دو بیٹوں کو گھر خالی کرنے کا حکم نامہ جاری، عدالت

ڈسٹرکٹ کلکٹر /ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے تحفظ حقوق والدین آرڈینینس 2021 کے تحت والدین کی نا فرمانی پر دو بیٹوں کو گھر خالی کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا جبکہ دوسرے مقدمے میں بیوی بچوں کو گھر کے سربراہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی ہدایت کی اور دوبارہ شکایت کی صورت میں عدالت کی طرف سے کارروائی کا عندیا دیا گیا۔

منڈی بہاو ءالدین ( ایم.بی.ڈین نیوز 19ستمبر2021) ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت میں منظور احمد نے اپنے دو نافرمان بیٹوں ظہور احمد، فاروق احمد کے خلاف درخواست دی کہ میرے دو شادی شدہ نافرمان بیٹے اور ان کی بیویاں جو کہ ہمارے ساتھ گھر میں رہتے ہیں جو کہ میری ملکیت ہے اور مجھے ، میری بیوی (جو ان کی حقیقی ماں ہے) اور بیٹیوں کے ساتھ روزانہ لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ، جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ میں نے عاق نامہ اخبار اور تھانہ سول لائن میں بھی دے دیا ہے۔ مجھے اپنے بیٹوں سے جان اور مال کا خطرہ ہے لہذا استدعا ہے کہ میرے بیٹوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دے کر مجھے انصاف فراہم کیا جائے جس پر بیٹوں کو بذریعہ کونسل طلب کیا گیا اور موقف لیا گیا۔

موقف میں بیٹوں کی طرف سے باپ کے ساتھ راضی نامہ کرنے کی درخواست کی گئی۔ جس پر کونسل نے باپ بیٹوں کو صلح کی مہلت بھی دی لیکن باپ بیٹوں میں صلح نہ ہو سکی ۔ جس پر ڈسٹرکٹ کلکٹر طارق علی بسرا نے تحفظ والدین آرڈینینس 2021 کے تحت نافرمان بیٹوں کو فوری گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح دوسرے مقدمے میں ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت میں گلزار احمد رانجھا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ میں بیمار ہوں ااورمیرا میرے بچوں اور بیوی کے سوا کوئی نہیں ۔لہذا بچوں کو حکم صادر کریں کہ وہ مجھے گھر لے جائیں اور میرے کھانے پینے اور دوائی کی ذمہ داری لیں اور مجھے گھر سے بیدخل نہ کریں، میرے گھر والوں کو مجھ سے کوئی روک ٹوک یا مسئلہ نہ ہو گا ۔

درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ اگر بیوی بچے میری یہ بات نہیں مانتے تو تحفظ حقوق والدین آرڈینینس کے تحت قانونی کارروائی کی جائے جس پر کونسل نے گلزار احمد کی بیوی ، بیٹوں اور سے بیٹی موقف لیا ۔ عدالت میں الزام علی ہمناف گلزار نے یہ موقف اختیار کیا کہ جس مکان میں ہم رہتے ہیں اگر ہمارا باپ فروخت نہ کرے تو ہمیں اپنے والد کو گھر میں رکھنے پر کوئی اعتراض نہ ہے ۔جس پر عدالت نے درخواست کا بغور جائزہ لینے کے بعد بیوی بچوں کو ہدایت کی کہ وہ تحفظ والدین آرڈینینس 2021کے تحت والد گلزار احمد کے ساتھ بہتر سلوک کریں اور ان کی خدمت گزاری کریں جبکہ عدالت نے درخواست گزار والد گلزار احمد کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ شفقت سے رہیں اور بیوی کے اسلامی قوانین حقوق ادا کریں ۔

عدالت نے یہ بھی موقف بھی اختیار کیا کہ اگر آئندہ بیوی اور بچوں کی طرف سے تحفظ حقوق والدین آرڈینینس 2021 کی خلاف ورزی کی گئی تو شکایت کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ کلکٹر /ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت نے تحفظ حقوق والدین آرڈینینس کے تحت والدین کی شکایات پرفوری داد رسی کا عمل تسلسل سے جاری رکھا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ عدالت سے والدین کی شکایات کے ازالہ کا بنیادی مقصد والدین کے حقوق ان کی دہلیز پر مہیا کرنا ہے.

طارق علی بسرا نے بتایااس عدالت میں شکایت درج کرانے کیلئے کوئی فیس نہ ہے اور نہ ہی سائل کو وکیل کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ سائل کی شکایت براہ راست سنی جاتی ہے اور بعض اوقات فوری حل طلب شکایات کا موقع پر ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ضلع منڈی بہاﺅالدین کے شہریوں نے ڈسٹرکٹ کلکٹر کی عدالت سے تحفظ حقوق والدین آرڈینینس 2021 کے تحت والدین کی فوری داد رسی پر عملدرآمد کی مثبت تعریف کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں