tea bags

ٹی بیگ والی چائے پینے سے پہلے ایک بار پھر سوچ لیں!

پاکستان میں چائے کی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں اور یہ گرم مشروب دنیا کے بیشتر حصوں میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق چائے پینے کے بے شمار فوائد ہیں جیسے قبل از وقت دماغی تنزلی سے تحفظ، مخصوص اقسام کے کینسر، فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی وغیرہ۔ بغیر چینی کی چائے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو مختلف امراض کی روک تھام اور جسمانی خلیات کی مرمت میں مدد دیتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان میں چائے کس قدر پسندیدہ مشروب ہے اور بیشتر افراد اسے بنانے کے لیے ٹی بیگ کا استعمال کرتے ہیں جو کہ پتی اور پیپر سے بنے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چائے، ہماری صحت کی دشمن یا دوست؟

ٹی بیگ کی چائے پینے والے ہو جائیں خبردار
جرمن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹی بیگز میں ایسے اجزا شامل ہیں جن کا استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ جرمن محققین کا کہنا ہے کہ جس کاغذ سے ٹی بیگ بنایا جاتا ہے اس میں انسانی صحت کے لیے مضر مادے پائے جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہ کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ریسرچ کے لیے چھ کمپنیوں کے ٹی بیگز کو مختلف طریقے سے جانچا گیا جن میں تین مہنگی اور تین ٹی بیگ سستی کمپنی کے تھے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں کم از کم چار ایسے اجزا شامل تھے جو کیڑے مار ادویات میں شامل ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ’ایپی کلوروہائیڈین‘ نامی ایک مادہ اس کاغذ میں شامل ہوتا ہے جو ٹی بیگ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہی اس کو صحت کے لیے نقصان دہ بناتا ہے۔ جرمن سائنسدانوں کے مطابق ٹی بیگ کو تھیلیوں میں لپیٹنے اور ان کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈالنے سے نقصان دہ مادہ پانی میں مل جاتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پتی کو براہ راست استعمال کرنا پیکٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں