pakistani dam

بارشوں کی وجہ سے ڈیم بھر گئے، سستی پن بجلی کی پیدوار بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

واپڈا پن بجلی گھروں سے پیک آورز کے دوران نیشنل گرڈ کو ریکارڈ 8ہزار854 میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی

لاہور (تازہ ترین۔ 13 ستمبر2021ء) بارشوں کی وجہ سے ڈیم بھر گئے، سستی پن بجلی کی پیدوار بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے پن بجلی منصوبوں سے سستی بجلی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ اس حوالے سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق واپڈا پن بجلی گھروں سے گزشتہ رات پیک آورز کے دوران نیشنل گرڈ کو 8ہزار854 میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی۔

جو رواں سال 2021 میں پن بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار ہے۔ جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ رات پن بجلی کی یہ پیداوار گزشتہ سال کے اسی دِن کی نسبت تقریبا ایک ہزار277 میگاواٹ زیادہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں یہ ریکارڈ اضافہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی زیادہ سے زیادہ آمد کے باعث ممکن ہوا، خاص کر تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن اور تربیلا چوتھے توسیعی ہائیڈل پاور سٹیشن سے بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا سے مجموعی طور پر 4 ہزار 926میگاواٹ، منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن سے 920 میگاواٹ، غازی بروتھا سے1450میگاواٹ، نیلم جہلم سے 850 میگاواٹ جبکہ دیگر بجلی گھروں سے 708میگاواٹ پن بجلی کی پیدوار ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں واپڈا کے پن بجلی گھروں کی کل تعداد 22ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 406میگاواٹ ہے۔

ان پن بجلی منصوبوں سے نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً37 ارب یونٹ سستی پن بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ پن بجلی کی یہ پیداوار ناصرف ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، بلکہ سستی ترین بجلی ہونے کی وجہ سے صارفین کیلئے بجلی کی قیمتیں مناسب سطح پر برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے وژن کے تحت پاکستان میں سستی پن بجلی کی پیدوار میں اضافے کیلئے کافی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔

نیشنل گرڈ میں سستی پن بجلی کے تناسب میں اضافہ کرنے کیلئے واپڈا ایک مربوط پروگرام پر عمل کر رہا ہے، جس کے تحت پن بجلی کے کئی میگا منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ حکومتی اور واپڈا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زیر تعمیر میگا پن بجلی منصوبے 2023 سے 2029 تک کے عرصے کے دوران مرحلہ وار مکمل کیے جائیں گے۔ زیر تعمیر اِن منصوبوں کی تعکمیل سے ملک میں سستی پن بجلی کی پیداوار 9ہزار 406میگاواٹ سے بڑھ کر 18ہزار 431میگاواٹ ہو جائے گی۔ یوں نیشنل گرڈ کو مہیا کی جانے والی سستی اور ماحول دوست بجلی 37 ارب یونٹ سے بڑھ کر 81 ارب یونٹ سالانہ ہو جائے گی۔ سستی بجلی کی پیدوار سے ناصرف عام عوام پر مالی بوجھ کم ہو گا، بلکہ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں واضح اضافہ ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں