electric car

کراچی کے طلبا نے عام گاڑی کو کم بجٹ الیکٹرک کار میں تبدیل کردیا

کراچی: اگر آپ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت سے پریشان ہیں اور اپنی گاڑی کو برقی کار میں تبدیل کرکے اپنے بجٹ کو متوازن  بنانا چاہتے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبا نے آپ کی مشکل آسان کردی ہے۔

عثمان انسٹی ٹیوٹ کے بیچلر آف الیکٹریکل کے طلبا نے مقامی مہران کار کو کم لاگت میں برقی کار میں تبدیل کرنے کا کارنامہ سر انجام دے دیا۔ جو پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی مارکیٹ میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ طلبا غلام محمد لوہار، احمد ظہیر حسین، سید محمد حسنین رضوی، مبشر حسین شیرازی، محمد عطاء المصطفیٰ، شہیر عارف اور سمیر باسط شاہ نے اپنے سپر وائزر ڈاکٹر عابد کریم کی نگرانی میں بجلی سے چلنے والی کاروں کے لیے بیٹری پیک اور موٹر سسٹم تیار کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلی الیکٹرک بائیک متعارف کرادی گئی

کم لاگت سے ملکی ماحول اور ڈرائیونگ کے طریقوں سے ہم آہنگ اس سسٹم کی آزمائش کے لیے مہران کار کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں بیٹری پیک اور ریئر ڈفرینشل پر موٹر نصب کرکے عام مہران کار کو کامیابی کے ساتھ الیکٹرک کار میں تبدیل کردیا ہے۔

بیٹری اور پیٹرول دونوں پر یکساں کارکردگی!
الیکٹرک کار کا سسٹم تیار کرنے والی ٹیم کے رکن غلام محمد لوہار نے ایکسپریس کو بتایا کہ کوئی بھی چھوٹی کار اس سسٹم کے ذریعے الیکٹرک کار میں تبدیل کی جاسکتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کار میں نصب کمبسشن انجن سسٹم بھی کارگر رہے گا یعنی اب پیٹرول سے چلنے والی عام کار کو پیٹرول یا بجلی دونوں سے چلایا جاسکتا ہے۔

غلام محمد نے بتایا کہ عام طور پر الیکٹرک کاریں پیٹرول پر نہیں چلتیں جس کی وجہ سے ان کاروں پر ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کم رفتار ہونے کی وجہ سے ان کاروں کو موٹر ویز اور ہائی ویز پر سفر کی اجازت نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگوں کے پاس نئی الیکٹرک کار خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی ایسے لوگوں کی مشکلات دیکھتے ہوئے ایسا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے جس سے عام  کاروں کو بجلی پر منتقل کیا جاسکے اور بوقت ضرورت اسے پیٹرول پر بھی چلایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں نے ’’میڈان پاکستان الیکٹرک کار‘‘ تیار کرلی

الیکٹرک کار اور بیٹری کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ایجاد میں سب سے زیادہ اہم کردار بیٹری پیک کا ہے جو درآمد شدہ لیتھیم آئرن فاسفیٹ سیلز سے تیار کی گئی ہے اوسط مسافت اور مسافروں کی تعداد کے پیش نظر 7کلو واٹ کا بیٹری پیک تیار کیا گیا ہے جس کی گنجائش میں ضرورت پڑنے پر کمی یا اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بیٹری کی کم سے کم لائف چار سے پانچ سال ہے یہ بیٹری چار ہزار مرتبہ چارجنگ سائیکل مکمل کرسکتی ہے، عام کار کو بجلی پر منتقل کرنے کی تین لاکھ روپے کی لاگت میں بیٹری کی قیمت نصف کے قریب ہے، کم طاقت اور بیک اپ کی حامل بیٹری کے ساتھ سسٹم کی لاگت بھی کم کی جاسکتی ہے۔

100 روپے میں 80 کلو میٹر سفر
غلام محمد نے بتایا کہ بیٹری کو مکمل چارج ہونے میں 4 سے 5 گھنٹے لگتے ہیں بجلی کے 7 یونٹس میں بیٹری کو مکمل چارج کیا جاسکتا ہے بجلی کے گھریلو نرخ کے لحاظ  سے بیٹری کم سے کم 40 روپے اور زیادہ ٹیرف کے حساب سے 140 روپے میں چارج ہوسکتی ہے، جب کہ اوسط ٹیرف کے ساتھ بیٹری 100 روپے میں چارج ہوکر 80 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر ے گی۔

غلام محمد کے مطابق کراچی جیسے شہر میں گھر سے دفتر اور گھر واپس آنے والوں کا فاصلہ اس سے کم ہی ہے، کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار 50 سے 60 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جس کا انحصار مسافروں کی تعداد اور گاڑی کے وزن پر ہے۔

800 سی اور اس سے اوپر کی تمام گاڑیوں میں فٹ ہونے کی خصوصیت
طلبا کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے مہران، ایف ایکس کے علاوہ  خیبر، شیراڈ اور نئی آنے والی ہیچ بیک گاڑیوں کو بھی الیکٹرک پرمنتقل کیا جاسکتا ہے اور بجلی پر منتقلی کی لاگت ایک سال میں پیٹرول کی بچت کے حساب سے اپنی قیمت وصول کرلے گی۔

طلبا کے مطابق کار میں نصب کی جانے والی موٹر واٹر پروف ہے اور پانی میں بھی چل سکتی ہے دوسری جانب بیٹری کو مسلسل چارج ہونے کی صورت میں خودکار سسٹم بیٹری چارج ہونے کے بعد چارجنگ روک دیتا ہے جس سے بیٹری کو نقصان نہیں پہنچتا۔

بیٹری کو اوور ہیٹنگ سے بچانے کے لیے خصوصی سینسرز
الیکٹرک سسٹم میں خصوصی سینسر نصب کیے گئے ہیں جو بیٹری یا سرکٹ گرم ہونے کی صورت میں 60 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بیٹری سے بجلی کی فراہمی روک دیتا ہے اس طرح مسافر وں کو آگ لگنے کے حادثات سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ غلام محمد نے بتایا کہ آزمائشی کار کے لیے 90 ماڈل کی مہران کار کا انتخاب کیا گیا جو بجلی کے ساتھ انجن پر بھی چل رہی ہے کار کا پروٹوٹائپ عثمان انسٹی ٹیوٹ میں موجود ہے جس کا کوئی بھی شہری معائنہ اور ٹرائل کرسکتا ہے۔ پراجیکٹ چھ ماہ کے عرصے میں مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کام کر سرانجام دینے کے لیے امریکا میں مقیم پاکستانی سید آصف حسن نے اہم کردار اداکیا جنہوں نے پراجیکٹ کے تمام اخراجات برداشت کیے اور اب وہ اس ٹیکنالوجی کو ملک میں عام کرنے کے لیے اس کی کمرشل پیداوار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

عثمان انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم کو یقین ہے کہ یہ پراجیکٹ پاکستان میں بجلی سے چلنے والی کاروں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اور پہلے سے موجود کاروں کو آسانی کے ساتھ بجلی پر منتقل کیا جاسکے گا۔ پراجیکٹ کو کمرشل کرنے کے لیے کاریں بنانے والی کمپنیوں یا نئے سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کے امکانات ہیں جن پر کام جاری ہے، بجلی سے چلنے والی کار میں مزید جدید فیچرز بھی شامل کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں