قیمتوں میں کمی سے ٹویوٹا اور سوزوکی گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت

انڈس موٹر کمپنی کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے بعد ایک ماہ میں ٹویوٹا اور سوزوکی کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اعلان کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی فروخت کے رجحان میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 1000 سی سی کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر اضافی کسٹم ڈیوٹی کی مد میں دی جانے والے ٹیکس میں کمی کا اطلاق یکم جولائی سے ہوا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی ٹویوٹا فورٹنر وی وی ٹی آئی کی قیمت میں دیکھنے میں آئی جس کی کل قیمت میں 4 لاکھ کی چھوٹ دی گئی ہے۔ دیگر 3 بڑی کمپنیوں کی گاڑیوں کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس میں ہونڈا، سوزوکی اور ٹویوٹا شامل ہیں۔ سوزوکی کی سب سے ہائی ڈیمانڈ الٹو گاڑی کا بیسک ماڈل 85000 میں دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہونڈا ’’سٹی‘‘ کے نئے ماڈل کی قیمت کااعلان

سینیر تجزیہ کار احمد لکھانی کا کہنا ہے کہ دیکھا جائے تو گاڑیوں کی قیمتوں میں یہ کمی وقتی سمجھ کر بھی لوگوں بڑی تعداد میں خرید کی جانب جا رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایک ماہ میں ٹویوٹا کی ریکارڈ 6 ہزار 775 گاڑیاں فروخت ہوئے، جب کہ سوزوکی کے مطابق ایک ماہ میں ان کی 15000 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو ہہلی دفعہ ہے۔ ایک اور تجزیہ کار طحہٰ مدنی کا کہنا ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ریکارڈ فروخت کی وجہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہے، اور ایسا پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ تمام کمپنیوں کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔

گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کیوں ہوئی؟
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کیوں کی تو اس کی وجہ سیدھی سی ہے۔ حکومت کی جانب سے 1000 سی سی والی اور دیگر گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز، ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں چھوٹ کے بعد 1000 سی سی اور اس سے کم والی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ جب کہ گاڑیوں پر عائد اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی ہٹا دی گئی ہے۔

ابتدائی طور پر وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت 850 سی سی کی گاڑیوں پر سے 205 فیصد عائد ٹیکس ختم کر رہی ہے، جب کہ انہیں گاڑیوں پر 12 سے 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی کم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں نے ’’میڈان پاکستان الیکٹرک کار‘‘ تیار کرلی

استعمال شدہ گاڑیوں کا کیا ہوگا؟
کراچی کے علاقے خالد بن ولید روڈ پر استعمال شدہ گاڑیوں کی ڈیلر محمد شاہ نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس اعلان کے ساتھ استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی قد ر و قیمت پہلے ہی کم ہوگئی ہے۔

جولائی 2021 سے پہلے بکنگ کرانے والوں کو فائدہ ہوگا؟
ٹویوٹا کار ڈیلر کا کہنا ہے کہ ایسے خریدار جنہوں نے رواں سال جولائی سے قبل 1000 سی سی کی گاڑیوں کی بکنگ کرائی تھی، وہ بھی فیڈرل ایکسائز ٹیکس میں کمی کے اعلان سے مستفید ہوسکیں گے۔ تاہم سوزوکی ڈیلر کا کہنا ہے کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے تو ان کے خریداروں کو فائدہ ہوگا، مگر سیلز ٹیکس میں کمی کا فائدہ براہ راست خریدار نہیں اٹھا سکیں گے، کیوں کہ کمپنی پہلے ہی ایف بی آر کو اس ٹیکس کی مد میں رقم ادا کرچکی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں