ٹوکیو اولمپکس 2020: اولمپک میڈل یا تمغے کی اصل قیمت کیا ہے؟

اولمپکس میں میڈل جیتنے کے لیے ایتھلیٹس سخت محنت کرتے ہیں، پسینہ اور آنسو بہاتے ہیں اور کئی قربانیاں دیتے ہیں۔۔۔ لیکن بالآخر یہ تمغہ جیتنے کے بعد ایک لمحے کے لیے وہ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ اس قیمتی دھات کے بنے تمغے کی اصل قیمت کیا ہے۔

اس کا جواب دلچسپ ہے مگر بات وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہوں گے۔ بعض لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ آیا اولمپکس کے گولڈ میڈل واقعی سونے کے بنے ہوتے ہیں یا نہیں۔ ہر بار اولمپکس کے دوران میڈل کا ڈیزائن اور بناوٹ مختلف ہوتی ہے۔ اس تحریر میں ہم آپ کو ٹوکیو اولمپک گیمز کے تمغوں کے بارے میں بتائیں گے۔ یہ میڈل جاپانی شہریوں کے عطیہ کردہ الیکٹرانک سامان سے بنائے گئے ہیں

ٹوکیو اولمپکس میں فاتح ایتھلیٹس کو دیے جانے والے تمغے دراصل ریسائیکل شدہ مواد سے تیار کیے گئے ہیں۔ جاپان کے لوگوں نے ایسی کئی الیکٹرانک مصنوعات عطیہ کی تھیں جن سے اولمپک میڈل تیار کیے گئے۔ مگر اس کے باوجود ان میں قیمتی دھات موجود ہیں۔ کیا گولڈ میڈل واقعی سونے کا بنا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ اولمپک گولڈ میڈل کی تیاری میں کم از کم 92.5 فیصد چاندی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کم از کم چھ گرام سونا ہونا لازم ہے۔

ایک ماہر کے مطابق اولمپک گیمز میں پیش کیے جانے والا گولڈ میڈل قریب 540 پاؤنڈ (750 امریکی ڈالر) کا ہے یہ پیسے شاید کسی عام شخص کے لیے کافی زیادہ ہوں۔ مگر ایسے کئی ایتھلیٹ جنھوں نے اپنی زندگی میں کافی زیادہ وقت، محنت اور پیسے ان کھیلوں میں کامیاب ہونے کے لیے لگائے ان کے لیے شاید یہ رقم کچھ زیادہ نہ ہو۔

بالڈونز آکشنز کے رچرڈ گلیڈل کہتے ہیں کہ یہ ظاہری قیمت ہے، جیسے کسی سکے میں موجود دھات کی ہوتی ہے۔ اس قیمت کی بنیاد میڈل میں موجود دھات ہیں۔ چاندی کے تمغے میں موجود چاندی کو اگر پگھلا لیا جائے تو اس کی قیمت 297 پاؤنڈ بنتی ہے۔ جبکہ کانسی کا میڈل تانبے اور زنک کے مرکب سے بنتا ہے۔ اس کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے، جو پانچ پاؤنڈ سے بھی کم بنتی ہے۔ مگر اس ظاہری قیمت میں میڈل کی اپنی اہمیت شامل نہیں۔

یقیناً کسی فاتح اولمپیئن کے لیے میڈل کی ظاہری طور پر کم رقم کوئی معنی نہیں رکھتی ہو گی۔ ایسا ایتھلیٹ جسے اپنی کامیابی پر فخر ہے اس نے تاریخ کی کتابوں میں اپنی فتح پر مہر لگوائی ہے اور یہ میڈل اس کی شہادت دیتے ہیں. ماضی میں سنہ 1912 تک اولمپک میڈل درحقیقت خالص سونے کے بنائے جاتے تھے۔ لیکن پہلی عالمی جنگ کے بعد ملکوں نے چاندی کے تمغوں پر سونے کی پرت چڑھانا شروع کر دی تھی۔ اکثر تصاویر میں جیتنے والے ایتھلیٹس سونے کے میڈل کو دانتوں سے چباتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ سونا دوسرے دھاتوں کے مقابلے نرم ہوتا ہے۔ تو اس لیے مستند سونے کی تصدیق کے لیے اسے چبایا جاتا تھا۔

اس روایت کے پیس منظر میں ٹوکیو 2020 کے منتظمین بارہا مذاق میں کھلاڑیوں کو یاد کراتے دکھائے دیتے ہیں کہ یہ دھات ’کھانے کے لیے نہیں۔‘ مگر میڈل کی اصل قیمت تب سامنے آتی ہے جب ان کی نیلامی کی جاتی ہے۔ عام طور پر اولمپک میڈل فروخت نہیں کیے جاتے مگر بعض اوقات لوگ انھیں لاکھوں پاؤنڈز کے عوض نیلامی میں بیچ دیتے ہیں۔ گلیڈل کا کہنا ہے کہ نیلامی میں میڈل کی قیمت کا تعین فاتح ایتھلیٹ پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ صرف اولمپک گولڈ میڈل کے مالک نہیں بننا چاہتے بلکہ وہ اپنے اولمپک ہیرو کی نشانی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں