سعودی عرب کے سیاحتی مقام نے دُنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا

ریاض ( تازہ ترین ۔31جولائی2021ء ) سعودی عرب صرف صحرا ہی نہیں بلکہ یہاں ایسے بے پناہ خوبصورتی کے مراکز بھی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ موسم گرما میں معتدل آب وہوا، تازگی بخش بارانی موسم، ہر سو ہریالی اور سبزے کا بچھونا، اطراف میں پہاڑوں کی بلند چوٹیاں، ان سے بہتے پانی کے جھرنے، آبشاریں اور سرسبزو شاداب کھیت کسی جنت نظیر وادی سے کم نہیں اور یہ جنت نظیر خطہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر میں المجاردہ گورنری میں واقع ہے جسے ’خاط مرکز‘ بھی کہا جاتا ہے۔

العربیہ نیوز کے مطابق خاط مرکز سعودی عرب کے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے جس کی طرف اندرون اور بیرون ملک سے سیاح کھچے چلے آتے ہیں۔خاط اپنے قدرتی اور فطری حسن کی بہ دولت انتہائی اہمیت کا حامل ہے مگر اس کی اپنی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ ایک مقامی شہری صاحب العمری نے بتایا کہ خاط میں کئی سیاحتی مراکز اور مقامات موجود ہیں۔ ان میں اہم ترین’غیہ‘ گاوں ہے۔

غیہ خاط کا سیاحتی لینڈ مارک ہے۔ یہ گاوٴں آتش فشاں پہاڑوں پر مشتمل ہے جب کہ موس گرما میں بادل جھک کر اس کی پیشانی کو چومتے دکھائی دیتے ہیں۔اسی طرح خاط مرکز میں ’الغیل‘ وادی کو ایک زندہ سیاحتی مقام قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں پر کیلے، کافی اور کئی دوسرے پھل دار درخت موجود ہیں۔ یہاں کا موسم سردیوں اور گرمیوں دونوں میں معتدل رہتا ہے۔

’آل شعثا‘ بھی اس علاقے کا ایک پرفضا مقام ہے۔صاحب العمری نے بتایا کہ خاط مرکز کے قریب ’تھوی کا پہاڑ‘ بھی ایک خوبصورت مقام ہے جو سطح سمندر سے 1700 میٹر بلند ہے۔ یہ پہاڑ بہ کثرت غاروں اور درختوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے اطراف میں پانی کے چشمے اور لہلاتے کھیت بھی سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے درمیان لوگوں نے مکانات بھی تعمیر کر رکھے ہیں۔ پہاڑ کا مشرقی حصہ خوبصورت قدرتی مناظرپر مشتمل ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں