فلسطین کی حمایت پر الجزائر کے کھلاڑی کو اولمپک گیمز سے باہر کردیا گیا

ٹوکیو: اولمپک گیمز میں الجزائر کی نمائندگی کرنے والے جوڈو کھلاڑی فتحی نوران نے اپنے مدمقابل اسرائیلی کھلاڑی سے مقابلے سے انکار کردیا جس پر انتظامیہ نے بقیہ میچز سے بھی بیدخل کرکے انھیں واپس وطن بھیج دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق الجزائر کے جوڈو کھلاڑی فتحی نوران نے اولمپکس گیمز میں اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ احتجاجاً مقابلے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایسے ملک کے ساتھ نہیں کھیل سکتا جس کے ہاتھ مظلوم فلسطینیوں سے رنگے ہوئے ہیں۔ کوچ عمار بینی نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی جس کی پاداش میں اولمپک کمیٹی نے انھیں بھی واپس وطن بھیج دیا۔ یہ دوسری بار ہے جب فتحی نوران نے فلسطین پر جارحیت کے خلاف اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ مقابلے سے انکار کیا ہے۔

فتحی نوران اور ان کے کوچ عمار بینی نے اولمپک کمیٹی کے فیصلے کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اسرائیلی مخالفت پر ہمیں نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ کسی کھلاڑی کے ساتھ کھیلنے سے انکار ہمارا حق ہے۔

اس حوالے سے عالمی جوڈو فیڈریشن کا کہنا ہے کہ الجزائر کے کھلاڑی کے اس فیصلے سے عالمی یکجہتی کو فروغ دینے میں مسائل کا سامنا ہوگا اس لیے کمیٹی یہ سخت قدم اُٹھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ الجزائر کے جوڈو کھلاڑی فتحی نوران نے اولمپک میں ابتدائی راؤنڈ میں سوڈان کے محمد ابدالسول سے مقابلہ کیا تھا اور دوسرا مقابلہ اسرائیلی جوڈو اسٹار توہر بٹبل سے تھا جس سے انکار پر انھیں اولمپک گیمز سے باہر کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں