تھوڑا سا ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا۔

تھوڑا سا ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا۔

پاکستان کے شہروں قصبوں میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ مثلا نااہل انتظامیہ، ترقیاتی کاموں کی ناقص منصوبہ بندی، عوام کا اداروں سے تعاون نا کرنا بھی شامل ہے۔ تعمیرات کا ایک ہی زمینی لیول پر بنانے کا کوئی قانون شاید سرے سے موجود نہی ہے۔ گلی یا سڑک جب دوبارہ بنتی ہے تو دو فٹ اونچی کر کے بنا دی جاتی ہے۔ نتیجتا لوگ اپنا گھر سڑک سے چار فٹ اونچا بنا کر سڑک یا گی میں ریمپ بنا دیتے ہیں۔ حکومت کو ایک شہر یا گاوں کا ایک ہی زمینی لیول کا قانون بنانا ہوگا۔ کہ کوئی گلی یا سڑک طے کردہ لیول سے اونچی نہی بنے گی۔ اور اس کے بعد کسی بھی فرد کو گلی یا سڑک پر ریمپ بنانے کی بالکل اجازت نہی ہونی چاہیے۔

عوامی سطح پر ہمارا تعاون اداروں کے ساتھ بالکل نہی ہے۔ ہم لوگ اپنے گھر و دوکان کا کوڑا سمیٹ کر نالی میں پھینک دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہر گاوں و شہر میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ بزنس مین لاکھوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ چند سو ماہانہ پر صفائی کے لیے کوئی بندا نہی رکھ سکتے جو ان کا کوڑا روزانہ کی بنیاد پر ٹھکانے لگا دے۔ “بس ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا”

یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاوالدین سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں مون سون کی بارشیں شروع

اپنا تبصرہ بھیجیں