طالبعلم سے بدفعلی،عزیزالرحمان کی میڈیکل اور ویڈیوفرانزک رپورٹ کی تفصیلات آگئیں

مدرسے کے طالب علم کےساتھ بدفعلی کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اورعدالت میں جمع ہونے والی ڈی این اے رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جبکہ عزیزالرحمان اور طا لبعلم کی ویڈیو کا فرانزک رپورٹ ميں ویڈیو کا اصلی ہونا ثابت ہوگيا ہے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال نے بتایا کہ طالبعلم سے بدفعلی کی آڈیواورویڈیو فرانزک تجزیے کيلئےجمع کروائی گئی تھی۔رپورٹ میں ویڈیو کيساتھ کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں پائی گئی اورویڈیومیں موجود طالبعلم اور ملزم دیکھے جاسکتے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ویڈیومیں موجود اشخاص خدوخال سے طالبعلم اور ملزم سےمطابقت رکھتے ہیں تاہم وقوعہ پرانا ہونے کی وجہ سے ڈی این اے تجزیہ نہيں ہوسکا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے واضح کردیا کہ بدفعلی جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کےمستحق نہیں ہیں۔

عدالت میں جمع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عزیزالرحمن بے قصور نکلے ہیں۔ڈی این اے رپورٹ کے مطابق طالب علم سے جنسی زیادتی کے کوئی شواہد موجود نہیں اورعزیزالرحمن اور متاثرہ طالب علم کا ڈی این اے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مدرسےکے طالب علم سے لیے گئے سیمپل میں کچھ بھی نہیں ملا اورمتاثرہ طالب علم کا میڈیکل تاخیرسے ہوا ہے۔

اٹھائیس جون کو جوڈیشل مجسٹریٹ رانا راشد نے کیس پرسماعت کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ضروری کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور11 جولائی کوعدالت کے روبرو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ بدفعلی کرنے کے الزام میں گرفتارعزیزالرحمن کے3 بیٹوں کی 30 جون تک عبوری ضمانتيں منظور کرلی گئی تھیں۔عزیزالرحمن کے تینوں بیٹوں نے عبوری ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کيا تھا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے مقدمے میں متعدد نامعلوم افراد کو نامزد کر رکھا ہے۔

دو ہفتے قبل اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔ عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا تھا کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں