کیا آپ نے اسلام آباد کےنزدیک یہ سحرانگیز آبشاردیکھا ہے؟

قدرتی آبشاروں کا دلفریب حسن یوں تو دور دور سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لاتا ہے لیکن اسلام آباد کے قریب ایک ایسا آبشار بھی ہے جہاں دشوار گزار راستے کے باعث اکا دکا لوگ ہی جاتے ہیں۔

سرسبز پہاڑوں ميں چھپا فطرت کا یہ شاہکار اسلام آباد سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اور اسے چیڑ والا سند یا پائن واٹر فال کہا جاتا ہے۔ چیڑ والا سند اس آبشار کا پرانا نام ہے اور وہ اس لیے پڑا کہ اس کے اوپر ایک چیڑ کا درخت ہے اور سند تالاب کو کہتے ہیں اس وجہ سے اسے چیڑ والا سند کہتے ہیں تاہم اس کا نیا نام پائن واٹر فال یا بسہ واٹر فال ہے۔

جہاں تک اس کے محل و وقوع کا تعلق ہے اگر ہم اسلام آباد سے لہتراڑ روڈ کے ذریعے کوٹلی ستیاں پہنچیں تو اس سے آگے ایک کچا اور پتھریلا راستہ بسہ گاؤں تک جاتا ہے جہاں سے پہاڑ کی تہہ میں اتر کر ہم اس آبشار تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کی گہرائی تقریبا 30 سے 35 فٹ ہے اور اس کا واٹر فال بھی تقریباً اتنا ہی ہے۔ اس گاؤں کے بیشتر باسی اب شہروں کی طرف نقل مکانی کر چکے اس لیے ویران علاقے میں کھانے پینے کی کوئی سہولت نہیں۔

یہاں تقریبا 50 سے 60 گھر تھے جو اب کم ہو کر آدھے رہ گئے ہیں کیوں کہ یہاں کوئی اسپتال، اسکول اور سڑک کی کوئی سہولت نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ یہاں سے شفٹ ہو گئے۔ یہ آبشار یوں تو سال بھر رواں رہتا ہے لیکن برسات میں یہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے اور یہاں چیڑ کے سر سبز درخت بھی ہیں جو بہت دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔ کٹھن راستے اور شہر سے تھوڑا دور ہونے کے باعث یہ آبشار لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے لیکن جو یہاں پہنچ جائے وہ فطرت کے حسن میں کھو کر رہ جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں