دس = ستر ، نئیں نئیں میں آج بیس روپے لوں گا (تحریر: محمد ندیم)

دس = ستر

نئیں نئیں میں آج بیس روپے لوں گا۔ منا سکول جانے سے پہلے روتے ہوئے اپنے ماں سے جھگڑ رہا تھا۔ جاؤ اپنے ابو سے لے لو۔ منے کے ابو نے دس روپے تھمائے۔ منا یہ جا وہ جا۔ راستے سے پاپڑ خریدے ۔ریپر نالی میں پھینکا پاپڑ جیب میں ڈالے اب مناسکول تک کھاتا جائے گا۔ منے کی امی ابا نے منے کو یہ نہیں بتایا بیٹا ریپر ڈسٹ بن میں یا جیب میں ڈال لینا گندگی پھیلتی ہے۔ نالیاں بند ہوتی ہیں پانی گلیوں میں آ جاتا ہے۔ بیماریاں پھیلتی ہیں۔

ایک گاؤں سے اوسطاً پانچ سو منے سکول کا رخ کرتے ہیں۔ ہر منا پیسوں کے بغیر سکول نہیں جاتا یا وہ گھر واپسی پر اپنا رانجھا راضی کرتا ہے۔ یہ سارے اپنے ماں باپ کے منے اس دس روپے کے بدلے پورے گاؤں اور سکول کی صفائی کا ستیاناس ناس مار دیتے ہیں۔ مندی بہاوالدین کے تقریباً سو سے زیادہ دیہاتوں میں ویلفیئرز کام کر رہی ہیں جن کو یہ کچرا اور ریپرز اٹھاٹے کے لیے سیوریج کو چالو رکھنے کے لیے ماہانہ ستر ہزار کے قریب خرچ کرنا پڑتا ہے۔

آخر مسئلہ کہاں پر ہے، بچوں میں ؟نہیں، کیونکہ بچوں کے کام ان کی تربیت کے مطابق ہوتے ہیں۔سکولز میں نہیں، کیونکہ سکولز اس پر روزانہ بات کرتے ہیں
گھروں میں، جی ہاں، منے کے والدین میں ، جی ہاں، ان کو شاید اندازہ نہیں

ان کےیہ دو بول ماحول اور معاشرے کو صاف ستھرا رکھنے میں کتنے معاون ہو سکتے ہیں۔ بیٹا چیز کھانے کے بعد ریپر جیب میں ڈال لینا پھر کہیں ڈسٹ بن میں ڈال دینا ۔ والدین کے یہ بول صحت مند صاف ستھرا ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے بچو! اپنے امی ابو کی تربیت کریں کہ دس روپے دیتے ہوئے صفائی کا بھی ذکر کر دیا کریں تا کہ ویلفیئر یا گورنمنٹ کو آپ کے دس روپے کے بدلے ستر ہزار روپے نا خرچ کرنے پڑیں ۔

محمد ندیم اختر
ڈھوک کاسب منڈی بہاوالدین

اپنا تبصرہ بھیجیں