ڈاک ٹر منڈی توں (تحریر: محمد ندیم اختر، ڈھوک کاسب)

ڈاک ٹر منڈی توں

بچو! بڑے ہو کیا بنوگے؟
ٹیچر ٹیچر میں ڈاکٹر بنوں گی۔ اپنے ملک و قوم کی خدمت کروں گی

ایسے سوالات اکثر اوقات سکولز میں سننے کو ملتے ہیں۔ ںچہ یا بچی ذہین ہوئی تو میرٹ ۔ نمبر کم آئے مضبوط خاندان کے لیے پرائیویٹ ڈاکڑی۔ بچوں پر انویسٹ کیا ان کا مستقبل محفوظ کیا۔ ڈاکٹری کامیابی سے پاس کرنے کے بعد شہر میں کرایہ پر کلینک حاصل کیا تھوڑی فیس پر اپنا شوہر ڈاکٹر ساتھ لائی۔ مناسب نسخہ جات لکھ کرنام کمایا۔ پیسہ اکٹھا کیا تو اپنا ہسپتال بنانے کا سوچا ، خوب خرچ کیا ہسپتال بنایا۔اب خدمت کا طریقہ کار بدل چکا۔

ہسپتال میں کمپنی سے ڈیل کر کے سٹور بنا چھوڑا۔مریض آتے گئے. انفیکشن ہے ایک ہی کمپنی کی دو چار دوائیاں لکھ دیں، دوسری مریض عورت انفیکشن ہے وہی دوائیاں، حاملہ عورت وہی دوائیاں ، حتیٰ کہ کوئی مرد بھی چلا جائے تو وہی وٹامن وہی منرل وہی انفیکشن۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ہسپتال کا خرچہ جو پورا کرنا ہے۔ کرایہ کی بلڈنگ میں وہی ڈاکٹر ہزار کی میڈیسن لکھتی تھی اب وہی ڈاکٹر اپنے ہسپتال میں تین ہزار کی میڈیسن لکھتی ہے۔ دوائی لے کر دکھا کر جانا ہے۔ مطلب ہسپتال کے سٹور سے میڈیسن خریدی جا سکے ۔

ضرورت بلا ضرورت ہر کسی کو ایک ہی قسم کی دوائی تھمائی جاتی ہے لوگوں کو ایک منظم طریقے سے لوٹا جا رہا ہے۔ وہ بچے جو بچپن سے ملک و قوم کی خدمت کا عہد لے کر بڑے ہوتے ہیں لالچ کی گہری کھائیوں میں گرتے چلے جاتے ہیں۔ مجبور اور شعور سے عاری قوم ان کی تسکین کا سامان مہیا کرتی رہتی ہے۔ عوام بے دریغ پیسہ خرچ کرتی ہے ان منظم ڈاکٹ ؤں کے پاس ۔ کیونکہ ان کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق جاری نا کیا گیا ہے۔ من مرضی من موجی ریٹ لسٹیں اور بیچاری عوام۔

آپ سرکاری ہسپتال کیوں نہیں جاتے؟
او جی اوتھے دھیان نئیں دیندے
چلو فئیر اوتھے جھتے ملک و قوم دی خدمت ہوندی اے ۔

تحریر: محمد ندیم اختر
ڈھوک کاسب، منڈی بہاوالدین

اپنا تبصرہ بھیجیں