منڈی بہاؤالدین شہر اور گردونواح میں چھوٹے بچوں سے بھیک منگوانے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا

منڈی بہاؤالدین شہر اور گردونواح میں چھوٹے بچوں سے بھیک منگوانے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا صبح سے لے کر رات گے تک سڑکوں پر بھیک مانگتے بچے نظر آتے ہیں رات کو یہ بچے تھک کر سڑکوں پر ہی سو جاتے ہیں.

ایک بچے سے مقامی صحافی طلعت محمود کی ملاقات رات دو بجے ہوئی جو کہ کبھی کسی ٹرک والے کو کبھی کسی موٹر سائیکل والے کو ہاتھ دے کر لفٹ مانگ رہا تھا جب کسی نے لفٹ نہ دیں تو بچہ تھک کر وہی پر کھڑے ایک رکشے میں سو گیا اگر اس بچے کے ساتھ کوئی بھی برا ہو جاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ کہاں ہیں وہ ادارے جو بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں صرف کاغذی کاروائی تک یہ ادارے محدود ہیں اور صرف تنخواہیں لے کر گورنمنٹ آف پاکستان پر بوجھ ہیں .

یہ ادارے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے شہریوں کی اپیل ہیں ایسے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو صرف اے سی والوں کمروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور عملی طور پر کوئی کام نہیں کرتے جب بھی کچھ برا ہوتا ہے تو سارا مدا پولیس پر ڈال کر یہ ادارے بری و ذمہ ہو جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں