عروبہ آفریدی، پاکستان کی سب سے کم عمرخاتون ایرواسپیس انجینئر

کراچی کی 23سالہ عروبا آفریدی نے نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کی کم عمر ترین ایرواسپیس فیمیل انجینئر کا اعزاز حاصل کرکے لڑکیوں کو ایک نئے شعبے میں کریئر بنانے کا راستہ دکھادیا ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن حدید کی رہائشی عروبا کے والد پاکستان اسٹیل ملزمیں الیکٹریکل انجینئر ہیں اور ان کے بھائی نے بھی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ پانچ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر موجود عروبا نے بچپن سے ہی برقی آلات سے کھیلنا شروع کردیا تھا۔ والد کی بدولت انہیں انجینئرنگ کے شعبے میں جانے کا شوق ہوا۔

اپنے شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے انٹرمیڈیٹ کے بعد ایک نجی ادارے ہاک ایوی ایشن سروسز سے وابستگی اختیار کرلی جو ایوی ایشن سے متعلق بین الاقوامی اداروں کا تسلیم کردہ ادارہ ہے۔ عروبا کہتی ہیں کہ انہیں بچپن سے ہی جہازوں میں دلچسپی تھی جہازوں کو دیکھ کر، ان میں سفر کرنے سے زیادہ ان کو یہ تجسس ہوتا تھا کہ یہ جہاز کیسے اڑتے ہیں اور ان کی مرمت کس طرح کی جاتی ہے۔

عروبا نے 2014میں نجی انسٹی ٹیوٹ سے وابستگی اختیار کی اور 2019میں لائسنس کے لیے اپلائی کیا انہیں اپنا لائسنس حاصل کرنے میں 6 سال لگے، انہوں نے تربیت لینے کے بعد ساڑھے پانچ سال تک عملی کام کیا۔ اپنے منتخب کردہ پروفیشن میں کیریئر بنانے کے لیے عروبہ کو سب سے زیادہ مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے والد پاکستان اسٹیل میں ملازم تھے جہاں تنخواہوں کی بندش کی وجہ سے ان کے وسائل محدود ہوگئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انہیں اپنا یہ خواب ادھورا چھوڑ کر فیلڈ کو خیر باد کہنے پر سوچنا پڑا لیکن ان کے والد نے اس دوران انہیں سپورٹ کیا۔

عروبہ نے اپنے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کڑی محنت کی، اس بارے میں عروبہ کا کہنا ہے کہ ان کے امتحانات جرمنی اور برطانیہ کے اداروں سے ہوتے تھے جس کی فیس فی امتحان پچیس سے تیس ہزار روپے ہوتی تھی جو یورو میں ادا کرنا پڑتی تھی، وسائل محدود ہونے کی وجہ سے فیسوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ درپیش ہوا اور ان کا داخلہ بھی کینسل ہوگیا۔

فیس ادا کرنے کے لیے انہوں نے ملازمت حاصل کی اپنی تنخواہ سے امتحانات کی فیس اقساط میں ادا کی، اور تھوڑ ے تھوڑے کرکے امتحانات کلیئر کرلیے۔فیلڈ میں موجود سینئرز نے بھی ان کی لگن دیکھ انہیں سپورٹ کیا۔ ایرو اسپیس انجینئرنگ کا شعبہ منتخب کرنے پر عروبہ کو بھی معاشر ے کے روایتی ردعمل کا سامناکرنا پڑا اور یہی باتیں سننے کو ملیں کہ سخت کام ہے، لڑکی ذات یہ کام کیسے کرے گی، یہ تو مردوں کا شعبہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

عروبہ کے مطابق ان حالات میں فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آگے کیسے جانا ہے لیکن فیلڈ میں آکر احساس ہوا کہ اتنا مشکل نہیں اور ایسا کوئی کام نہیں جو لڑکی ہونے کی وجہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ عروبہ کہتی ہیں کہ خواتین کو ہر فیلڈ میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے ایرو اسپیس انجینئرنگ کے شعبہ کے بارے میں بھی یہ سوچ ہے کہ اس شعبہ میں لڑکیاں نہیں آسکتیں، بہت سی لڑکیاں ڈر جاتی ہیں، یہ سوچا جاتا ہے کہ لڑکے لڑکیوں سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔

لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس فیلڈ میں ایسا کوئی کام نہیں جو لڑکیاں نہیں کرسکیں، پاکستان سے باہر ہر جگہ اس فیلڈ میں لڑکیاں ہیں اس طرح کی سوچ کہ لڑکیاں کام نہیں کرسکتیں یہ غلط ہیں میں بھی بہت سے لوگوں کی یہ باتیں سنتی رہیں منفی تنقید کو فالو کرنا بے وقوفی ہے تو میں نے یہ سوچ کر مثبت لوگوں کی باتوں پر دھیان دیا اور آگے بڑھتی رہی۔

عروبہ نے کہا کہ خواتین کو آگے آکرثابت کرنا چاہیے کہ سب کچھ کرسکتی ہیں۔ خواتین کو اس شعبہ میں آگے آنا چاہیے۔ اس شعبےمیں لوگوں سمجھتے تھے کہ میں کام کی سختی سے گھبرا کرگھر بیٹھ جاؤوں گی، لیکن میں نے اپنی مستقل مزاجی نے ان کی سوچ کو غلط ثابت کردیا اور جس کمپنی سے وابستہ ہوں، اس کے سی ای او سے لے کر چیف انجینئر اور ساتھی ٹیکنیشن سب سے سپورٹ کیا۔ عروبہ مختلف چھوٹے طیاروں پر کام کرتی ہیں جن میں زیادہ تر 19سیٹر یا اس سے چھوٹے جہاز شامل ہیں، عروبہ کہتی ہیں کہ میری ذمہ داریوں میں جہاز کو تکنیکی لحاظ سے درست رکھنا ہے تاکہ جہاز محفوظ پرواز کرسکے اس کے لیے انجن اور جہاز کی باڈی اور پورے اسٹرکچر کا باریک بینی سے معائنہ کرنا ہوتا ہے۔

جہا ز کی روانگی سے قبل جہاز کو چیک کیا جاتا ہے جس میں جہاز کے ایندھن اور آئل سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں اسی طرح جہاز کے لینڈ کرنے کے بعد جہاز کو اچھی طرح چیک کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں جہاز جب تک زمین پر رہتا ہے تکنیکی عملہ اس بات کا جائزہ لیتا رہتا ہے کہ جہاز کی مینٹی نینس اور درست حالت میں رکھنے میں کوئی کمی نہ باقی رہ جائے، عروبہ کہتی ہیں کہ ایرو اسپیس انجینئر پر دیگر انجینئرز سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ بہت حساس شعبہ ہے اس میں غلطی کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے۔

سڑک پر چلنے والی گاڑی میں ہونے والی خرابی کو درست کیا جاسکتا ہے لیکن جہاز ہواؤں کے دوش پر ہزاروں فٹ بلندی پر ہوتا ہے اس دوران کسی غلطی یا کوتاہی کا نتیجہ حادثہ کا سبب بھی بن سکتا ہے جس سے پائلٹ اور مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑسکتی ہیں، اس فیلڈ کے لیے خود پر اعتماد اور تجربہ دونوں بہت ضروری ہیں جیسے جیسے تجربہ بڑھتا ہے بہت سے ایسے تکنیکی پہلو مشاہدے میں آتے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے غلطی کے امکان کو کم سے کم کیا جاتا ہے۔ جہاز بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے دیے گئے جہاز کے مینوئل رہنمائی فراہم کرتے ہیں جن میں مینوفیچکررز کی جانب سے ہدایات دی جاتی ہیں ان ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے تو غلطی کا امکان نہیں رہتا۔

عروبہ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی پاکستانی ایئرلائن میں بطور ایرواسپیس انجینئر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ طلبہ کو ہر شعبہ میں ان کی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے، میں پاکستان میں رہتے ہوئے ایک خاتون کی حیثیت سے کام کرکے بتانا چاہتی ہوں کہ پاکستانی خواتین بھی اسی طرح کام کرسکتی ہیں اور اچھی انجینئر ثابت ہوسکتی ہیں جس طرح دنیا بھر میں خواتین انجینئر ہر شعبہ میں کام کررہی ہیں۔ عروبہ کہتی ہیں کہ بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے اسکول کی سطح پر کونسلنگ کی ضرورت ہے اساتذہ کوبچوں کے رجحان کا ابتدائی عمر میں ہی اندازہ کرلینا چاہیے اور بچوں کو اس جانب بڑھانا چاہیے اس کے ساتھ فزکس کیمسٹری اور ریاضی جیسے مضامین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عروبہ کا لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ وہ ابتدائی عمر سے ہی اپنا یہ خوف ختم کردیں کہ وہ مردوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتیں یا کوئی کام یا شعبہ ایسا ہے جو خواتین کے لیے موزوں نہیں کسی بھی شعبہ سے وابستہ ہوکر 100فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے رجحان کو معاشرے کا ایک عارضہ قرار دیتے ہوئے اسے دور کرنے اور بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی صنفی تعصب سے نجات دلانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں