پھالیہ: حکومت کا چوتھا بجٹ بھی مکھی پر مکھی مار حکمت عملی کا شاہکار ہے،لیاقت بلوچ

لاہور:نائب امیر جماعت اسلامی، سابق ممبر قومی اسمبلی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کا چوتھا بجٹ بھی مکھی پر مکھی مار حکمت عملی کا شاہکار ہے، قومی معیشت کے لئے زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے، اسے یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔

لاہور،منڈی بہاؤالدین، پھالیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران خان حکومت کا چوتھا بجٹ بھی روایتی اور مکھی پر مکھی مار حکمت عملی کا شاہکار ہے۔ بجلی، تیل، گیس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ بجٹ سال بھر کا نہیں حکومت ہر ماہ منی بجٹ عوام پر مسلط کرے گی۔ عمران خان سرکار نے جھوٹے اعداد و شمار کے ساتھ اقتصادی نہیں سیاسی اور انتخابی بجٹ عوام اور معیشت پر مسلط کر دیا ہے، قومی معیشت کے لئے زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے، اسے یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔

سٹیل، سیمنٹ، اینٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے کنسٹرکشن محاذ کو زمین بوس کر دیا ، حکومت بجٹ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو جائے گی اور ٹیکسوں، مہنگائی، بے روزگاری کا طوفان آئے گا۔ لیاقت بلوچ نے کسانوں، تاجروں اور نوجوانوں کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی معیشت کو سود، قرضوں اور کرپشن کی لعنت سے پاک کرنا ہو گا۔ ملک کے 72ویں قومی بجٹ میں بھی اقتصادی نظام کی سمت مقرر نہیں ہو سکی۔ روایتی، ناکام اور ناکارہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی تابعدار غلام ذہن اقتصادی ٹیم نے آزمودہ ناکام فارمولا کے ساتھ بجٹ قوم پر مسلط کر دیا ہے.

حکومتی اتحادی جماعتیں اور ناراض عناصر عمران خان کو بلیک میل کرینگے،حکومت بلیک میلنگ کے سامنے سرنڈر کرے گی۔ دوسرا راستہ قبل ازوقت انتخابات کا ہو گا۔ تنخواہوں، پنشن میں مطالبات کو نظرانداز کر دیا گیا ۔اضافہ دس فیصد نہیں افراط زر اور مہنگائی کی شرح سے اضافہ ملازمین پنشنرز اور محنت کشوں کا مطالبہ ہے۔

لیاقت بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی بقاء کے لئے مل کر چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے عمل سے عمران خان سرکار کو آکسیجن فراہم کر رہی ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کو متحد منظم اور یکسو کرے گی۔ ملک گیر رابطہ عوام کے ذریعے ناکام، کرپٹ فرسودہ ریاستی نظام پر کاری ضرب لگائیں گے۔ نوجوان اور کسان مزدور اس تحریک میں جوہری کردار ادا کرینگے

اپنا تبصرہ بھیجیں