منڈی بہاوالدین میں مہنگی اور غیر معیاری کھاد بیچنے والوں کو ایک لاکھ 3ہزار روپے جرمانہ کیا گیا، زراعت

منڈی بہاﺅالدین( ایم.بی.ڈین نیوز 31مئی2021) ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسان کی خوشحالی ضلعی نتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان زرعی ایمرجنسی کے 5 سالہ پروگرام کیلئے 309 ارب رکھے گئے ہیں، زیادہ سے زیادہ پیداوار اور آمدن میں اضافے کیلئے کاشت کاروں کو فصلوں پر سبسڈیز بھی فراہم کی جا رہی ہیں ، محکمہ زراعت اور متعلقہ اداروںکو زراعت کی ترقی اور زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے اپناکام ذمہ داری اور ملی جذبے سے کرنا ہو گا تا کہ حکومت کی جانب سے مہیا کی گئی سہولیات سے عام کسان بخوبی استفادہ حاصل کر سکے اور عوام الناس کو معیاری اجناس میسر آسکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ڈپٹی کمشنر آفس میں ضلعی زرعی ایڈوائزری اور ٹاسک فورس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمداقبال،ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹڑ محمد ممتاز بیگ، ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ، کسان بورڈ کے نمائندوں صالح رانجھا، اکرم رانجھا، ظفر حیات کرتانہ کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔

قبل ازیں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمد اقبال نے ملٹی میڈیا کے ذریعے اجلاس کوپریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں کھاد کا وافر زخیرہ موجود ہے اور کھاد کی قلت کے کوئی امکانات نہیں ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت نے ماہ مئی میں ضلع بھر میں مہنگی اور غیر معیاری کھاد بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کرتے ہوئے 248 ریڈز/انسپکشنز کیں اورخلاف ورزیوں پر ایک لاکھ 3ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف کھادوں کے 37نمونے لے کر لیبارٹریوں کو بھجوائے گئے جن میں سے 8نمونے ان فٹ پائے گئے جس پر ان فٹ نمونوں کے مالکان کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کروائی گئی ہیں۔

شیخ اقبال نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت کسانوں اور کاشت کاروں کو سبسڈی پر منظور شدہ اقسام کے بیج اور زرعی مشینری فراہم کی جارہی ہے اور محکمہ زراعت (توسیع)کی جانب سے خوش نصیب کاشت کاروں کو شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے سبسڈی پر زرعی آلات فراہم کئے جا رہے ہیں جبکہ دھان اور دیگر اجناس کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے والے کیلئے کسانوں اور کاشتکاروں میں پیداواری مقابلے کروا کر جیتنے والے کاشتکاروں میں لاکھوں روپے کے زرعی آلات بطور انعام دئیے جائیں گے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد ممتاز بیگ نے اجلاس کو بتایا کہ حکومتی ہدایت کے مطابق چھوٹے بڑے مویشیوں کی ویکسینیشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور ہر یونین کونسل میں محکمہ لائیو سٹاک کی فیلڈ ٹیمیں اور موبائل ہسپتال کسانوں اور مویشی پال حضرات کو ناصرف حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات بہم پہنچا رہے ہیں بلکہ ان کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کیلئے مفید معلومات بھی فراہم کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب غریب خاندانوں میں پولٹری پر 1050روپے میں ایک مرغا اور 5مرغیاں فراہم کی جا رہی ہیں ۔

تفصیلی بریفنگ سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر طارق علی بسرا نے کہا کہ زرعی شعبہ ہمارے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسان کی خوشحالی کا مطلب ملک کی مجموعی ترقی ہے اور کسان کی خوشحالی اور زرعی معیشت کی مضبوطی لازم وملزوم ہیں۔ اجلاس میں موجود کسان بورڈ کے نمائندوں اور کاشت کاروں نے شعبہ زراعت کی ترقی کے لئے حکومت کی طرف سے جاری کےے گئے منصوبوں کی تعرےف کی اور ان کو اسی طرح جاری رکھنے کی گزارش کی ۔ کسان بورڈ کے نمائندوں کی جانب سے کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے گزارشات بھی پیش کی گئیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے افسران کو گزارشات حل کرنے کی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں