منڈی بہاوالدین میں کھاد کا وافر زخیرہ موجود ہے اور کھاد کی قلت کے کوئی امکانات نہیں، زراعت آفیسر

منڈی بہاﺅالدین( ایم.بی.ڈین نیوز 31جنوری 2021)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو توقیر الیاس چیمہ نے کہا ہے کہ بزدار حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے لا تعداد اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی ،زرعی مشینری اور دیگر سہولیات شامل ہےں، وزیراعظم پاکستان زرعی ایمرجنسی کے 5 سالہ پروگرام کیلئے 309ارب رکھے گئے ہیں، زیادہ سے زیادہ پیداوار اور آمدن میں اضافے کیلئے کاشت کاروں کو فصلوں پر سبسڈیز بھی فراہم کی جا رہی ہیں ، محکمہ زراعت اور متعلقہ ادارے زراعت کی ترقی اور زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے اپناکام ذمہ داری اور ملی جذبے سے کرنا ہو گا تا کہ حکومت کی جانب سے مہیا کی گئی سہولیات سے عام کسان بخوبی استفادہ حاصل کر سکے اور عوام الناس کو معیاری اجناس میسر آسکیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ڈپٹی کمشنر آفس میں ضلعی زرعی ایڈوائزری اور ٹاسک فورس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمداقبال، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ زاہد آفتاب، کسان بورڈ کے نمائندوں اکرم رانجھا، ظفر حیات کرتانہ، انور تارڑکے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی شریک تھے۔

قبل ازیں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) شیخ محمد اقبال نے ملٹی میڈیا کے ذریعے اجلاس کوپریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں کھاد کا وافر زخیرہ موجود ہے اور کھاد کی قلت کے کوئی امکانات نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کھادوں کی قیمتوں کی درج ذیل قیمتیں مقرر کی گئی ہیں جس کے مطابق اے ڈی پی کھاد 4019روپے تک فروخت کی جا رہی ہے جبکہ یوریا کھاد سونا 1717، یوریا کھاد ببر شیر 1697روپے،ایف ایف سی 3969، اینگر ڈی اے پی 4437، سر سبز ڈی اے پی 4388سے لیکر 4398، نائٹرو فاسفورس 2910روپے تک فروخت کی جارہی ہے ۔اسی طرح محکمہ زراعت نے پرائس کنٹرول کے حوالے سے 168انسپکشنز کیں اور9ایف آئی آرز درج کروائیں اور 5 لاکھ55ہزار 500روپیہ جرمانہ بھی کیا ۔جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھاد ڈیلروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ کھادوں کے مقرر کردہ ریٹس دوکانوں پر نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور کھاد خریدنے کے بعد کسانوں کو خریداری رسید بھی مہیا کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جعلی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والوں کو کسانوں کا استحصال کسی صورت نہیں کرنے دیا جائے گا۔جعلی ادویات اور کھاد بیچنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔شیخ اقبال نے اجلاس کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت کسانوں اور کاشت کاروں کو سبسڈی پر بیج ، زرعی آلات اورمشینری فراہم کی جارہی ہیں ۔ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے منصوبہ برائے گھریلو مرغبانی کے فروغ کے تحت محکمہ لائیو سٹاک کے زیر اہتمام خواہش مند حضرات کو معیاری اور سبسڈائزاڈ نرخوں پر سستی پروٹین کی فراہمی کیلئے مرغیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک یونٹ جوکہ ایک مرغ اور 5مرغیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کی مارکیٹ قیمت 1500 روپے ہے لیکن وہ حکومت پنجاب لائیو سٹاک سبسڈائزڈ نرخوں پر قرعہ اندازی کے تحت 1050 روپے میں دے رہی ہے۔تفصیلی بریفنگ سننے کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کہا کہ زرعی شعبہ ہمارے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسان کی خوشحالی کا مطلب ملک کی مجموعی ترقی ہے اور کسان کی خوشحالی اور زرعی معیشت کی مضبوطی لازم وملزوم ہیں۔اس موقع پر کسان بورڈ کے نمائندوںنے کسانوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے گزارشات بھی پیش کیں جس پراے ڈی سی آر نے جائزگزارشات کو جلد متعلقہ فورم پر بھیجنے اور انہیں حل کروانے کی یقین دہانی کروائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں