نو عمر لڑکوں کا ڈنکی لگانا (غیر قانونی یورپ کا سفر) ایک غور طلب تحریر

نو عمر لڑکوں کا ڈنکی لگانا (غیر قانونی یورپ کا سفر) ۔ ایک غور طلب تحریر
——————————————

Advertisement

آج کل بڑی تعداد میں نو عمر پاکستانی ڈنکی (غیر قانونی ذریعہ سے براستہ ایران،ترکی اور یونان )لگا کر یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں جو پہلے مراحلے پہ یونان پہنچتے ہیں اور پھر ان کے پسندیدہ ممالک میں جرمنی،فرانس اور سویڈن شامل ہیں،جن کی قسمت اور لنکس اچھے ہوتے ہیں وہ یونان سے جلد آگے چلے جاتے ہیں اور جو پیسوں کی کمی یا آگے کے ممالک میں لنکس نہ ھونے پر یونان ہی رک جاتے ہیں،والدین ایجنٹوں کی باتوں میں آکر کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو یورپ کے کاغذات یعنی پاسپورٹ جلد مل جائے گا کہ لالچ میں اپنے نا سمجھ جگر کے ٹکڑے کو پردیس بھیج دیتے ہیں

دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے دوران بچوں کو والدین کی نگرانی اور اساتذہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہوتی یہی وہ عمر ہے جس میں بچے تمام عمر کے لیے بنتے یا بگڑتے ہیں،مگر لالچ،غربت ،لوگ کی امارت سے حسد(یہ نہیں سوچنا اس نے یہاں تک پہنچنے میں کتنی محنت کی)اور ایجنٹوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اس کو بے رحم معاشرے میں خود اپنے ہاتھوں دھکیل دیتے ہیں،زیادہ تر کم عمر بچوں کو باہر بھکنے کا رحجان گجرات،گوجرانوالہ ،منڈی بہاؤالدین ،پنڈی ڈویژن، سیالکوٹ، حافظ آباد سے ہے،

کچے ذہن اور کسمپرسی ،تنگ دستی کے ستائے یہ نو عمر بچے یورپ ممالک پہنچ کر سرپرستی نہ ھونے پر ادھر ادھر دھکے کھا کر غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد کے ہتھے چڑھ کر زندگی خراب کر لیتے ہیں ،کسی منشیات فروش کے گینگ میں شامل ہو کر نشے پہ لگ جاتے ہیں یا پھر منشیات فروشی پر جیل پہنچ کر پورے یورپ میں اپنے بہتر مستقبل پر صاف لگا لیتے ہیں کیونکہ منشیات میں سزا یافتہ شخص کا ڈیٹا پورے یورپ میں پہچ جاتا ہے اور پھر نہ تو والدین سے دور پردیس کی مشکلیں سہنے اور اچھے مستقبل کا خواب سب ختم ہوجاتا ہے،فرانس میں اسی طرح نو عمر بچوں کے گینگ بنے ہوئے ہیں جہاں لاٹھی ڈنڈے سے بات آگے بڑھ کر چھریاں ،کلہاڑے تک جا پہنچی ہے چند ماہ قبل وزیر آباد کا اٹھارہ سالہ بچہ بھی قتل ہوا تھا،

نو عمر بچے ٹک ٹاک،pubg،شیشہ،شراب نوشی،جوا،چرس اور زنا کا جلد شکار اور عادی ہو کر جس مقصد کے لئے والدین ان کو یہاں بھیجتے ہیں بھول کر اپنی لائف انجوائے شروع کر دیتے ہیں،والدین سے گذارش ہے خدا راہ چھوٹی عمر کے بچوں پر اپنے لالچ اور ان کے بہتر مستقبل کی سوچ میں زندگی خراب نہ کریں،جس عمر میں بچے کو آپ کی ضرورت ہے اس پر اپنے سے دور کرنے کا ظلم نہ کریں آخر میں آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا،آئے روز بچوں سے زیادتی،قتل ،لڑائی جھگڑے یورپ میں پاکستانیوں کی بری شناخت بنتے جارہے ہیں،سن حالات میں دینی مدارس،سماجی تنظیموں ،صحافی برادری اور سفارتخانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ یہ سلسلہ بڑھے گا روکے گا نہیں۔

بشکریہ، بدر منیر سندھو

اپنا تبصرہ بھیجیں