غیرسیاسی آلو (تحریر: محمد ندیم اختر)

غیرسیاسی آلو

پاکستانی کسان بڑا محنتی ہے۔اس کی تیار کردہ ہر فصل میں اس کا پسینہ شامل ہوتا ہے۔وہ بڑی جانفشانی سے تپتی دھوپ اور دھند زدہ راتوں میں اپنے کھیتوں کی آبیاری میں مگن رہتا ہے تب جا کر فصل کا آلو آلو قوم کے حلق تک پہنچتا ہے۔ وہی آلو جس کو کسان بڑی محنت سے تیار کی گئی زمیں میں بوتا ہے۔آلو کا ایک ایک بیج مٹی میں ملا کر مزید آلو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جی ہاں وہ تمام آلو کے بیج جن کو زمین پر اکٹھا بویا جاتا ہے ان کو ایک جیسی آب وہوا ،خوراک اور پانی کی مقدار میسر ہوتی ہے۔

ان کو مزید کھاد دے کر خوراک کے لالچ کو بڑھا دیا جاتا ہے۔آپ دیکھتے ہیں ایک دیکھتے ہیں کہ ایک ہی ماحول میں پلنے بڑھنے والے آلوؤں کو جب زمین سے نکالا جاتا ہے تو ایک ہی پودے سے حاصل ہونے والے آلوؤں کا سائز مختلف ہوتا ہے۔کیوں کسان تو ہر آلو کے پودے پر یکساں محنت کرتا ہے پھر اس فصل اسے یکساں کھیتی کا حصول کیوں نہیں ہوتا۔ اب جب فصل تیار ہو چکی خیر سے بڑے بڑے آلو الگ کر کسان خاص مقصد کے لیے رکھ چھوڑتا ہے جیسے آلو کی چپس ،فرائز وغیرہ ۔

چھوٹے آلو ، آلو شوربے ، سموسے اور پکوڑوں کے کام آتے ہیں۔ جن آلوؤں کو خاص قسم کے مقصد کے لیے چنا جاتا ہے وہ آلو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے حصے میں کوئی نمایاں کام آنے والا ہے۔ ان کو دھویا جاتا ہے ،پالش کیا جاتا ہے ٹھنڈا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ان کو تروتازہ رکھنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤکیا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت ان کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ ان آلوؤں میں موجود ایک بڑے سائز کا آلو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہا ہے کہ میں کسی ایسے کام کے لیے استعمال ہونے لگا ہوں جہاں صاف ستھرے برتن اور تمیز دار افراد کا دستر خوان ہو گا۔آلو اس خوشی میں راتوں کی نیند حرام کرتا ہے ۔اس کا سنہرا مستقبل دیکھ کرکئی اس جیسے آلو اس کے ساتھ آن ملتے ہیں۔

آن ہی آن میں ان کے استعمال کا وقت آیا چاہتا ہے ان کو چھیل کر نہا دھلا کر چپس بننے کی ذمہ داری دے کر مشین میں ڈالا دیا گیا مگر یہ کیا جناب آلو مشین سے آدھا گزرنے کے بعد پھنس گئے تمیزدار کسان نے بہت زور لگایا آگے جانے کو مگر ناکام ۔اس وقت آلو کو سمجھ آیا کہ اس مشین سے گزرنے کی میری تیاری پوری نہیں تھی ۔بغیر تیاری کے میں یہاں سے نہیں گزر سکتا تھا۔ اب آلو اس مشین میں پھنسا ہوا ہے اور رولا ڈال رکھا ہے۔

لوکو میرا دل گھبرا گیا مینوں کڈّو

تحریر: محمد ندیم اختر، ڈھوک کاسب

اپنا تبصرہ بھیجیں