سوال : “ڈاکٹر صاحب مجھے یا میرے کسی پیارے کو کرونا ہوگیا ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے”؟ ضرور پڑھیں

Advertisement
Advertisement

ضرور پڑھیں، عمل کریں، اور شئیر کریں۔

سوال : ڈاکٹر صاحب مجھے یا میرے کسی پیارے کو کرونا ہوگیا ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟
جواب : اگر آپ کو کرونا کی علامتیں ہیں یا آپ کا یا آپ کے کسی عزیز کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے تو سب سے پہلے کرونا سے متاثرہ مریض کو آئسولیشن اختیار کر لینی چاہیے تاکہ دیگر فیملی میمبرز کو اور دوسرے لوگوں کو کرونا سے بچایا جا سکے-اسی طرح آپ نے خوفزدہ نہیں ہونا کیونکہ صحت مند آدمی کی باڈی کا دفاعی نظام کرونا کو خود شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے-اس لیے دنیا بھر میں زیادہ تر لوگ کرونا کا شکار ہوکر خود ہی صحتمند ہو رہے ہیں، صرف کچھ بد قسمت ایسے ہیں جنھیں کرونا موت کی وادی میں میں لے جاتا ہے

سوال: اگر گھر میں کسی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو تو کیا دیگر دوسرے فیملی میمبرز کو کرونا کا ٹیسٹ کروانا چاہیے؟
جواب: جی ان فیملی میمبرز کو جن میں کرونا کی کوئی علامت نہ ہو انھیں اپنا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے تاکہ کرونا سے متاثرہ مریضوں کو صحت مند فیملی میمبرز سے علیحدہ کیا جا سکے.

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کہاں سے کروایا جاسکتا ہے

سوال : کرونا کے مریض کی دیکھ بھال کس طرح کی جائے؟
جواب :کرونا ایک وائرل انفیشکن ہے ہر وائرل انفیکشن کی طرح یہ بھی میعادی ہوتا ہے، اور ایک سے دو ہفتوں میں متاثرہ مریض بہتر ہونا شروع ہوجاتا ہے – دوران انفیکشن مریض کو علامتوں کے اعتبار سے دوائی دی جاتی – جو مندرجہ ذیل ہیں

کھانسی :
سمپل شہد کا ایک چمچہ کھانسی کو بہتر بنا سکتا ہے، مریض کو اگر کھانسی ہو تو اس کو بالکل سیدھا لیٹنے سے اجتناب کرنا چاہیے، کھانسی کے لیے کوئی بھی کف سیرپ استعمال کیا جاسکتا ہے، سینکوس نامی سیرپ اگر مارکیٹ میں مل جائے تو وہ خشک کھانسی کے لیے بہترین ہے.

نزلہ زکام :
نزلے زکام کو بہتر بنانے کے لیے اینٹی الرجی کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور دیگر گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں جیسے ادرک+شہد-+لیمو کو قہوہ سنا مکی، جوشاندہ، ڈار چینی کا قہوہ وغیرہ

گلے میں خراش:
اسٹیم لینے سے گلے کی خراش میں بہتری آتی ہے، نیبیولائزشن کا استعمال کیا جاسکتا ہے

بخار :
پیناڈول کو استعمال کرنا چاہیے

سوال : مریض کی امیونٹی کو کیسے بڑھایا جائے؟
جواب : دوران ِ آئسولیشن مریض اپنی نیند پوری کرے، مناسب خوراک لیتا رہے ساتھ اسے وٹامن سی، ای اور ڈی مناسب مقدار میں خوارک کے زریعے یا سپلیمنٹ کی صورت میں دیے جاسکتے ہیں

سوال : ہمیں مریض کو اسپتال کب لیکر جانا چاہیے؟
جواب: اس ضمن میں میرا مشورہ یہ ہوگا کہ آپ کے گھر پر ایک ڈیوائس جسے پلس آکسی میٹر(pulse oxymeter) کہا جاتا ہے ہونا چاہیے،یہ ڈیوائس کسی بھی بڑے میڈکل اسٹور سے با آسانی مل جاتا ہے – اس ڈیوائس کو آپ مریض کی انگلی پر لگا کر یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے مریض کے جسم میں آکسیجن پوری ہے یا نہیں ہے ،عام طور پر نارمل حالت میں کسی بھی صحت مند شخص کی آکسیجن سیچوریشن %95-%100 کے درمیان ہوتی ہے-اگر آپ کے مریض کو سانس میں تکلیف بڑھ رہی ہو اور ساتھ میں اس کی آکسیجن سیچوریشن(oxygen saturation) میں کمی آرہی ہو تو یہ ایک بری علامت اور شدید بیماری کی نشانی ہوسکتی ہے،
ایک مشورہ یہ بھی ہوگا کہ آپ اپنے علاقے کے جنرل فزیشن کے ساتھ فون پر یا اس کے کلینک کے زریعے رابطے میں رہیں اور اپنے مریض کی طبیعت میں آنے والی تبدیلیوں کا حوالے سے اسے آگاہ کرتے رہیں تاکہ وہ آپ کو اسپتال جانے کے حوالے سے بروقت گائیڈ کر سکے-

میں کچھ خون کے ٹیسٹ بتا رہا ہوں – اگر چار پانچ دن گزرنے کے بعد مریض کی علامتیں بہتر نہ ہورہی ہوں یا ان میں کسی وقت بھی اضافہ ہوجائے تو اپ فوراً خون کا نمونہ لیبارٹری بھیج دیں – آپ کا جنرل فزیشن ان ٹیسٹ کی روشنی میں آپ کی رہنمائی زیادہ بہتر انداز سے کر سکے گا – اس سب کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو بھی اسپتال کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے اور اسپتال میں بھی بے جا مریضوں کا برڈن نہیں بڑھے گا –

CBC
CRP
Ferritin
D-dimer
Procalcitonin
Urea/creatinine/electrolytes
LFT

ویسے تو چیسٹ ایکسرے بھی ہونا چاہیے مگر خون کا سیمپل گھر سے دیا جاسکتا ہے جبکہ ایکسرے کے لیے آپ کو اسپتال جانا پڑے گا – اس لیے اگر صرف یہ ٹیسٹ کروا لیے جائیں اور پلس آکسی میٹر سے آکسی جن سچوریشن چیک ہوتی رہے تو آپ کے ڈاکٹر کو اسپتال شفٹ کرنے کا فیصلہ لینے میں بہت آسانی ہوجائے گی.
اللہ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔آمین

Advertisement

سوال : “ڈاکٹر صاحب مجھے یا میرے کسی پیارے کو کرونا ہوگیا ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے”؟ ضرور پڑھیں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں